بی آر ریسرچ

آٹو پالیسی کی الجھن

  • زیادہ دور اندیش کمپنیاں موجودہ ڈیفالٹ پوزیشن کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

گزشتہ آٹو پالیسی 2021-26 اپنی مدت پوری کر چکی ہے۔ اب کچھ کمپنیوں کو نئی آٹو پالیسی کا انتظار ہے، جبکہ زیادہ دور اندیش کمپنیاں موجودہ ڈیفالٹ پوزیشن کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہیں۔ ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹیوں کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔ صنعت کے مختلف کھلاڑیوں کے درمیان اندرونی اختلافات بھی جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب کمرشل درآمد کنندگان کے لیے مارکیٹ میں داخل ہونے کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کے شوقین افراد کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ سیلز ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹی میں دی گئی رعایتوں میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ بعض کمپنیاں صرف مکمل طور پر تیار شدہ درآمدی گاڑیوں (سی بی یوز) پر انحصار کر رہی ہیں اور امکان ہے کہ وہ یہ حکمت عملی جاری رکھیں گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایک سال بعد کیا ہوگا، کیونکہ آئی ایم ایف ان گاڑیوں پر ٹیکسوں کو معمول کے مطابق لانے پر اصرار کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے بعض کمپنیاں مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیاں بنانے کے فیصلے مؤخر کر سکتی ہیں، جبکہ تمام کمپنیاں فی الحال سی بی یوز فروخت کرتی رہیں گی اور توقع ہے کہ مڈ کراس اوور گاڑیوں کے شعبے میں قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) کو بھی بدستور وہی مراعات حاصل رہیں گی جو وی ویز کو حاصل ہیں، کیونکہ اس شعبے کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پہلے ہی کچھ درآمد شدہ ای ویز اور ایک مقامی طور پر اسمبل ہونے والی آر ای ای وی غیر معمولی تیزی سے فروخت ہو رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مزید کمپنیاں بھی اس شعبے میں داخل ہوں گی۔ تاہم بعض کمپنیاں اب بھی پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں (پی ایچ ای ویز) اور آر ای ای ویز کے لیے یکساں ٹیکس مراعات کے حصول کے لیے لابنگ کر رہی ہیں۔

موجودہ ڈیفالٹ پوزیشن کے تحت ای ویز اور آر ای ای ویز پر 1 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) برقرار ہے، جبکہ بعض کیٹیگریز میں پی ایچ ای ویز اور ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں (ایچ ای ویز) پر 25 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہے۔ ای وی اور آر ای ای وی پالیسی میں تو ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے، لیکن ایچ ای ویز اور پی ایچ ای ویز کے لیے کم شرح جی ایس ٹی کی سہولت ختم ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان پر جی ایس ٹی بڑھ کر 25 فیصد ہو گیا ہے، جو اندرونی احتراقی انجن (آئی سی ای) والی مساوی گاڑیوں کے برابر ہے۔ کچھ کمپنیوں کو توقع ہے کہ ایک ایس آر او (ایس آر او) جاری ہوگا جس کے ذریعے یہ شرح کم کر کے 18 فیصد کر دی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔

آٹو اسمبلرز کو درپیش ایک اور اہم مسئلہ مارکیٹ کے درمیانی حصے میں ریورس کیسکیڈنگ کا آغاز ہے۔ کمرشل درآمدات کے لیے پرزہ جات پر درآمدی ڈیوٹی کم کر کے 25 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یوز) پر یہ شرح 30 سے 50 فیصد کے درمیان ہے۔ دوسری جانب سی کے ڈی کٹس پر ڈیوٹی مقامی پرزہ جات کے تناسب کے مطابق 32 فیصد سے 46 فیصد تک ہے، جبکہ نئے سرمایہ کاروں کے لیے اوسط مؤثر شرح تقریباً 38 سے 40 فیصد بنتی ہے۔

مقامی آٹو اسمبلرز کو امید ہے کہ ایک اور ایس آر او جاری ہوگا، جس کے تحت سی کے ڈی پر ڈیوٹی میں بھی کمی کی جائے گی۔

اسی لیے چند کمپنیاں دو اہم تبدیلیوں کی منتظر ہیں: پہلی، ایچ ای ویز اور پی ایچ ای ویز پر جی ایس ٹی میں کمی، اور دوسری، سی کے ڈی پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض کمپنیوں نے خاص طور پر ایچ ای ویز اورپی ایچ ای ویز کے بعض ماڈلز کی پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے۔ ایک جاپانی کمپنی نے ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں تبدیلی کر کے آرڈرز لینا شروع کر دیے ہیں، جبکہ دیگر کمپنیاں ابھی انتظار کر رہی ہیں۔

فی الحال زمینی صورتحال یہی ہے۔ حکومت اب بھی آٹو پالیسی کے حوالے سے ماہرینِ معاشیات سے آراء لے رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مشاورت پہلے نہیں ہونی چاہیے تھی؟ بہرحال، لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ماہرِ معاشیات گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف وزارتوں کی جانب سے کیے گئے کمزور تجزیوں پر شدید ناراض ہیں۔

آٹو پالیسی پر ابتدائی کام، مشاورت اور تیاری کافی پہلے مکمل ہو جانی چاہیے تھی اور اسے بجٹ کے ساتھ یا بجٹ سے پہلے پیش کر دینا چاہیے تھا۔ تاہم نیا مالی سال شروع ہو چکا ہے، مگر پالیسی اب بھی زیر غور ہے اور مختلف کمپنیاں اپنی مرضی کے فیصلوں کے لیے مسلسل لابنگ کر رہی ہیں۔

اس دوران افواہوں کا بازار بھی پوری طرح گرم ہے۔ متوقع ٹیکس تبدیلیوں کی بنیاد پر نئی قیمتوں کے اندازے گردش کر رہے ہیں۔ بظاہر جولائی کا پورا مہینہ اسی غیر یقینی صورتحال میں گزرے گا، جبکہ آٹو صنعت کی پیداوار، جو اوسطاً 25 ہزار گاڑیاں ماہانہ ہے، کم رہنے کا امکان ہے۔ بعض کارخانے مکمل طور پر بند ہیں جبکہ کچھ جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی پالیسی میں وضاحت آئے گی، صنعت کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

مستقبل کا رخ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقامی آٹو صنعت کو حاصل تحفظ میں بتدریج کمی آئے گی۔ سی بی یوز پر درآمدی ٹیرف پہلے ہی کم کیے جا چکے ہیں۔ آئندہ برسوں میں ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز بھی ختم کر دی جائیں گی، جس کے بعد بعض کمپنیوں کے لیے مارکیٹ میں برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مارکیٹ میں ڈمپنگ کا رجحان بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

مجموعی طور پر آٹو انڈسٹری میں شامل متعدد نئی کمپنیوں کے لیے مستقبل زیادہ حوصلہ افزا دکھائی نہیں دیتا۔ جیسا کہ کسی نے بجا طور پر کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے آٹو انڈسٹری نئی سیمنٹ انڈسٹری بن چکی ہے؛ ہر کوئی اس کاروبار میں شامل ہونا چاہتا ہے، لیکن منافع کی گنجائش محدود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ محفل کب تک قائم رہتی ہے۔