دنیا

آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کی آمد و رفت معطل، حملوں سے ایران جنگ بندی معاہدہ شدید خطرے میں پڑگیا

  • جمعرات کی علی الصبح اب تک صرف دو آئل ٹینکرز ہی آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو سکے
شائع اپ ڈیٹ

تجارتی ڈیٹا اور ذرائع کے مطابق جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی آمد و رفت لگ بھگ معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

یہ صورتحال ایران پر امریکہ کے نئے فضائی حملوں اور اس کے جواب میں خلیج میں تہران کی جوابی کارروائی کے بعد جہاز رانی کے خطرات میں شدید اضافے کے باعث پیدا ہوئی۔

جمعرات کی علی الصبح اب تک صرف دو آئل ٹینکرز ہی اس آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہو سکے۔ شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے کپپلر کے مطابق ان میں ایک خام تیل کا سپر ٹینکر برگ 1 تھا، جس نے ایران کے جزیرہ خارگ سے تیل لوڈ کیا تھا اور وہ امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔ کپپلر کے تجزیے اور ایل ایس ای جی کے جہاز رانی کے ڈیٹا کے مطابق دوسرا بحری جہاز مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے چلنے والا کیمیکل ٹینکر ویل سیل تھا، جو اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں شارجہ کے قریب لنگر انداز تھا۔

جہاز رانی کی صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز اب تیزی سے اپنے عوامی اے آئی ایس ٹریکنگ سسٹم بند کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے خطے سے گزرنے والے تمام جہازوں کی نگرانی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ انرجی ریسرچ کمپنی ریسٹیڈ انرجی کے جیو پولیٹیکل تجزیات کے سربراہ جارج لیون نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی آمد و رفت بنیادی طور پر رک چکی ہے، جو واشنگٹن یا تہران کے کسی بھی بیان کے مقابلے میں اس وقت خطرے کی سنگین صورتحال کو زیادہ واضح طور پر بیان کرتی ہے۔

تازہ ترین کشیدگی نے امریکہ ایران جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا

ایران کے جنوبی ساحلی اور مشرقی صوبوں پر امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے جمعرات کو پڑوسی خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس نے تین ہفتے پرانی جنگ بندی کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چار ماہ سے جاری اس تنازع میں تازہ کشیدگی رواں ہفتے کے آغاز میں آبنائے ہرمز میں تین ٹینکرز پر ہونے والے حملوں سے شروع ہوئی، جن کا ذمہ دار امریکہ نے تہران کو ٹھہرایا تھا۔

دوسری طرف ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ایران پر امریکی حملے اور بحری جہازوں کے راستے تبدیل کرنے کی مداخلت آبنائے ہرمز کو بتدریج دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ مزید کسی بھی امریکی مداخلت کا دندان شکن جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی اس مشرقِ وسطیٰ جنگ سے پہلے دنیا بھر کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز کے راستے ہی منتقل ہوتا تھا۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران روزانہ کی آمد و رفت جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی، جس میں اوسطاً 40 جہاز روزانہ گزر رہے تھے، لیکن یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی اوسط (125 سے 140 جہاز روزانہ) سے بہت کم تھی۔

ایل این جی ٹینکر پر حملہ : اربوں مالیت کے قیمتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات عیاں

انشورنس انڈسٹری کے ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ جنگی خطرات کی انشورنس کرنے والے بعض اداروں نے شپنگ کمپنیوں کو آبنائے ہرمز سے اپنے سفر عارضی طور پر روکنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ دیگر ادارے جہازوں پر ہونے والے تازہ حملوں کے بعد اپنی انشورنس پالیسیوں کی شرائط کا ازسرِ نو جائزہ لے رہے ہیں۔ شپ بروکنگ کمپنی کلارکسنز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ تازہ ترین کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی امیدیں اب مزید کمزور نظر آتی ہیں۔

رواں ہفتے نشانہ بننے والے تین بحری جہازوں میں سے ایک قطر کا ایل این جی ٹینکر الرقیات منگل کی رات دیر گئے میزائل حملے کے بعد انجن روم میں آگ لگنے کے باعث اب بھی عمان کے ساحل کے قریب پھنسا ہوا ہے اور اسے نکالنے کے لیے امدادی کارروائیوں کا انتظار ہے۔ اگرچہ پہلے دھماکے کا شدید خدشہ تھا، تاہم انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ خطرہ کم ہے اور ایل این جی کا کارگو محفوظ معلوم ہوتا ہے۔

دنیا کی بڑی فلیگ اسٹیٹس میں سے ایک مارشل آئی لینڈز کے جہازوں کے رجسٹرار نے رائٹرز کو بتایا کہ ”الرقیات“ کے واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تاہم حساس صورتحال کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک میرین وار انشورنس ماہر نے بتایا حالیہ واقعات سے یہ واضح ہے کہ اب انشورنس مارکیٹ کو بہت زیادہ مالیاتی مالیت کے حامل بڑے تجارتی جہازوں کی تباہی اور بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔