کاروبار اور معیشت

مئی کے لیے بجلی مہنگی، نیپرا نے منظوری دے دی

  • ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین پر لاگو ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

نیپرا نے صارفین کے لیے بجلی 33 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مئی 2026 کے لیے 33.64 پیسے فی یونٹ کے مثبت فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی منظوری دے دی ہے جو پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے صارفین پر لاگو ہوگا۔

اس سے قبل سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 81.73 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی۔ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مئی کے دوران بجلی کی پیداوار کی اصل ایندھن لاگت 9.2488 روپے فی یونٹ رہی جبکہ مقررہ حوالہ جاتی ایندھن لاگت 8.4315 روپے فی یونٹ تھی۔

تاہم اتھارٹی نے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد 33 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی۔

اس معاملے پر 30 جون 2026 کو عوامی سماعت منعقد کی گئی جس میں متعلقہ حکام اور صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ شرکاء میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے نمائندے ریحان جاوید بھی شامل تھے۔

سماعت کے دوران عامر شیخ نے بجلی کی کھپت میں کمی کے پیشِ نظر جاری سہ ماہی کے لیے متوقع کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی، آر ایل این جی ٹرمینل چارجز اور کیپٹو گیس لیوی میں ہونے والی کمی کے فوائد صارفین تک منتقل کرنے کی ٹائم لائن کیا ہوگی۔

ان خدشات کے جواب میں سی پی پی اے-جی نے بتایا کہ جون 2026 کے حقیقی اعداد و شمار موصول ہونے کے بعد کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ادارے نے مزید کہا کہ پاکستان پاور مینجمنٹ کمپنی کے مطابق اس ایڈجسٹمنٹ کے نمایاں حد تک زیادہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے سی پی پی اے-جی نے وضاحت کی کہ اس سے ملنے والا ریلیف متعلقہ ضابطہ کار کے مطابق متعلقہ ماہ کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو منتقل کردیا جائے گا۔

آر ایل این جی ٹرمینل چارجز میں چھوٹ کے حوالے سے سی پی پی اے-جی نے بتایا کہ اسے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، جبکہ یہ بھی واضح کیا کہ کیپٹو گیس لیوی کا معاملہ فی الحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

جماعت اسلامی کے نمائندے عمران شاہد نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ میں اضافہ سستے پاور پلانٹس کے کم استعمال اور پارٹ لوڈ چارجزکی شمولیت کی وجہ سے ہوا ہے۔ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر نے وضاحت کی کہ بجلی پیدا کرنے والے کارآمد یونٹس کو سسٹم کی طلب کے عین مطابق چلایا جاتا ہے، جبکہ سی پی پی اے جی نے موقف اختیار کیا کہ پارٹ لوڈ چارجز موجودہ معاہدوں کے تحت وصول کیے جاتے ہیں۔

“نیپرا کے فیصلے کے مطابق، ڈسکوز اور کے-الیکٹرک مئی 2026 کے لیے لاگو اس ایف سی اے کو جولائی 2026 کے بجلی کے بلوں میں شامل کریں گے۔