نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی مالیاتی نظم و نسق، شفافیت اور گورننس سے متعلق سنگین بے ضابطگیاں سامنے آگئی ہیں۔ آڈٹ رپورٹ 2025-26 (مالی سال 2024-25) کے مطابق نیپرا نے ریکارڈ مالی سرپلس حاصل کرنے کے باوجود قانون کے تقاضوں کے مطابق مکمل رقم وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ (ایف سی ایف) میں منتقل نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں نیپرا کی مجموعی جامع آمدنی 1.58 ارب روپے رہی، تاہم ادارے نے صرف 921.99 ملین روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے، جبکہ تقریباً 884 ملین روپے اپنے پاس برقرار رکھے۔ آڈٹ حکام نے اسے نیپرا ایکٹ 1997 کی دفعہ 17 کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، جس کے تحت ٹیکس کی ادائیگی کے بعد تمام اضافی فنڈز فوری طور پر وفاقی خزانے میں جمع کرانا لازم ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران وفاقی حکومت کو واجب الادا رقم 221.99 ملین روپے سے بڑھ کر 883.91 ملین روپے تک پہنچ گئی، جو مالیاتی نظم و ضبط میں کمزوری اور قانونی ذمہ داریوں کی عدم پاسداری کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ نیپرا نے اپنی منظور شدہ اکاؤنٹنگ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے آمدنی کو ایکروئل بنیاد کے بجائے کیش بنیاد پر ریکارڈ کیا، جس کے باعث 91.34 ملین روپے کی آمدنی مالیاتی گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئی۔ آڈٹ کے مطابق اس عمل سے ادارے کے مالیاتی بیانات کی ساکھ متاثر ہوئی۔

آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ نیپرا لائسنس یافتہ اداروں سے 161.94 ملین روپے کے واجبات بھی وصول کرنے میں ناکام رہا۔ یہ رقم برسوں سے مشکوک قرض کے طور پر ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم نہ اسے رائٹ آف کیا گیا اور نہ ہی مؤثر ریکوری کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ملازمین کو دیے گئے ایڈوانسز میں 51 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور ان کا حجم تقریباً 984 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ اسی عرصے میں وفاقی حکومت کے ذمہ واجبات بھی بڑھتے رہے، جو مالی منصوبہ بندی اور اخراجات کی ترجیحات پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

اگرچہ مالیاتی اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی، جن میں سرپلس ریشو، ریٹرن آن ایسیٹس (آر او اے)، ریٹرن آن کیپیٹل ایمپلائڈ اور ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) میں نمایاں اضافہ شامل ہے، تاہم آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ مالی کامیابیاں بہتر گورننس، قانون پر عملدرآمد اور ادارہ جاتی نظم و ضبط میں تبدیل نہ ہو سکیں۔

آڈٹ حکام نے نیپرا کے کیش مینجمنٹ نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرپلس کا بڑا حصہ ٹیکس واجبات اور ایڈوانس ٹیکس ایڈجسٹمنٹس میں پھنسا رہا، جس سے وفاقی حکومت کو فنڈز کی بروقت منتقلی متاثر ہوئی اور مالی شفافیت مزید پیچیدہ ہوگئی۔

آڈٹ رپورٹ میں نیپرا میں داخلی کنٹرول، مالیاتی نظم و ضبط اور ریگولیٹری نفاذ کو کمزور قرار دیتے ہوئے سخت اصلاحی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر ان خامیوں کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو نہ صرف عوامی اعتماد متاثر ہوگا بلکہ ملک کے بجلی کے شعبے کے ریگولیٹر کی ساکھ بھی مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026