نئے مالی سال کا آغاز پیٹرولیم قیمتوں پر دفاعی حکمت عملی کے ساتھ
- کاغذی طور پر دیکھا جائے تو حکومت اب بھی مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 1.7 کھرب روپے کے پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کی وصولی کے ایک پرعزم ہدف پر قائم ہے
مالی سال 2026-27 میں ایندھن کی قیمتوں سے متعلق پہلی سرکاری اطلاع (نوٹیفکیشن) سے توقع تھی کہ وہ پورے سال کی سمت کا تعین کرے گی، لیکن اس کے بجائے اس نے جواب دینے سے زیادہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کاغذی طور پر دیکھا جائے تو حکومت اب بھی مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 1.7 کھرب روپے کے پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کی وصولی کے ایک پرعزم ہدف پر قائم ہے۔ اس ہدف کے پیچھے موجود حساب کتاب بظاہر سادہ ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی سالانہ کھپت میں گزشتہ برسوں کے دوران فروخت ہونے والے تقریباً 17 ارب لیٹر کے مقابلے میں زیادہ فرق آنے کا امکان نہیں۔ دیگر پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی شامل کر لیا جائے، تب بھی اس ریونیو ہدف کے حصول کے لیے اوسطاً ایسی پیٹرولیم لیوی درکار ہوگی جو موجودہ سطح سے خاصی زیادہ ہو۔
تازہ ترین قیمتوں کے نوٹیفکیشن کے بعد اب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر پیٹرولیم لیوی 70 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔
یہیں سے حکومت کی قیمتوں کے تعین کی حکمت عملی غیر مربوط اور متضاد دکھائی دینے لگتی ہے۔
صرف دو ہفتے قبل صارفین کو ایندھن کی خوردہ قیمتوں میں نمایاں کمی دی گئی تھی۔ یہ کمی صرف عالمی منڈی میں قیمتوں میں آنے والی گراوٹ کو صارفین تک منتقل کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی میں بھی کمی کر دی گئی تھی، یعنی حکومت نے اپنی مالی گنجائش کا ایک حصہ خود ہی چھوڑ دیا، حالانکہ اگر مالی سال 2026-27 کا ہدف حاصل کرنا ہے تو یہی گنجائش مستقبل میں دوبارہ پیدا کرنا پڑے گی۔
اس فیصلے کا وقت اسے مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ مالی سال کے آغاز پر حکومتوں کے پاس بتدریج اضافی ریونیو حاصل کرنے اور مالیاتی تحفظ کا ذخیرہ بنانے کا سب سے زیادہ موقع ہوتا ہے۔ عالمی خام تیل کی قیمتیں اس حد تک نرم پڑ چکی تھیں کہ حکومت اس فائدے کا کچھ حصہ زیادہ پیٹرولیم لیوی کی صورت میں اپنے پاس رکھ سکتی تھی اور اس کے باوجود صارفین کو پمپ پر قیمتوں میں نمایاں ریلیف بھی فراہم کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کے برعکس حکومت نے خوردہ قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی بھی کم کر دی، اور یوں مالی سال 2026-27 کا آغاز ایسی لیوی سے کیا جو اب خود حکومت کے بجٹ کے حساب کتاب کے مطابق بھی مطلوبہ سطح سے کافی کم دکھائی دیتی ہے۔
البتہ ایک شعبہ ایسا ضرور ہے جہاں حکومت نے بالکل ویسا ہی قدم اٹھایا جیسا متوقع تھا۔
کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) کو اب 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس ترمیم نے بزنس ریکارڈر ریسرچ کی ان تشویشات کو بھی درست ثابت کر دیا ہے، جو مالی سال 2026-27 کی بجٹ دستاویزات کے اجرا کے بعد سامنے آئی تھیں، کیونکہ ان دستاویزات میں بظاہر وصولیوں کا تخمینہ پرانی یعنی کم شرح پر لگایا گیا تھا، حالانکہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اس لیوی کو دوگنا کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔
تاہم اصل ریونیو چیلنج کلائمیٹ سپورٹ لیوی نہیں ہے۔
شرح میں اضافے کے باوجود سی ایس ایل مجموعی ریونیو ضرورت کا صرف ایک معمولی حصہ ہی فراہم کرتی ہے۔ اصل بوجھ اب بھی پیٹرولیم لیوی ہی کو اٹھانا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں اعداد و شمار تشویش پیدا کرتے ہیں۔ موجودہ کھپت کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے، تقریباً 1.7 کھرب روپے کے پیٹرولیم لیوی ہدف کا مطلب یہ ہے کہ مؤثر لیوی موجودہ سطح سے خاصی زیادہ ہونی چاہیے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے فی لیٹر کی شرح ایک نمایاں خلا چھوڑتی ہے، جسے بالآخر کسی نہ کسی مرحلے پر پُر کرنا ہی پڑے گا۔
ممکن ہے کہ پالیسی ساز صرف اس مہلت سے فائدہ اٹھا رہے ہوں جو نئے مالی سال کے آغاز پر دستیاب ہوتی ہے۔ ریونیو وصولیوں پر فوری دباؤ محدود ہے، سہ ماہی کارکردگی کے اہداف ابھی کچھ فاصلے پر ہیں، اور آئی ایم ایف کا اگلا جائزہ بھی فوری طور پر متوقع نہیں۔ اس لیے اس وقت وصولیوں کو زیادہ سے زیادہ سطح تک لے جانے کی کوئی فوری ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔
لیکن یہ اطمینان عارضی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومت جتنی زیادہ دیر تک پیٹرولیم لیوی میں ضروری ردوبدل مؤخر کرے گی، بعد میں اتنا ہی بڑا اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ بتدریج اور مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ تقریباً ہمیشہ بڑے اور اچانک اضافوں کے مقابلے میں آسان ہوتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائیں۔ خام تیل کی موجودہ نسبتاً سازگار صورتحال درحقیقت وہی موقع فراہم کرتی ہے جس سے حکومتیں عموماً اپنے مالیاتی تحفظ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
اگر اس موقع کو ضائع کر دیا گیا تو حکومت کو ممکنہ طور پر مستقبل میں پیٹرولیم لیوی ایسے وقت بڑھانا پڑے گی جب عالمی منڈی کے حالات کہیں زیادہ ناموافق ہوں گے، جس سے پہلے ہی مشکل مالیاتی ایڈجسٹمنٹ مزید تکلیف دہ اور پیچیدہ بن جائے گی۔