امریکی محکمہ انصاف نے گوتم اڈانی کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی سفارش کر دی
- عدالتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں استغاثہ نے اڈانی کے خلاف کمزور بنیادوں پر مقدمہ قائم کیا تھا
امریکی محکمہ انصاف نے بھارتی ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف دائر فوجداری مقدمہ ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک غیر ملکی معاملہ ہے، جسے عدالت میں ثابت کرنا مشکل ہے اور یہ محکمہ کی موجودہ ترجیحات سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
امریکی محکمہ انصاف نے ہفتے کے روز 10 صفحات پر مشتمل عدالتی دستاویز جمع کرائی، جس میں عدالت سے گوتم اڈانی اور دیگر ملزمان کے خلاف تمام الزامات مستقل طور پر ختم کرنے کی استدعا کی گئی۔
یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا جب امریکی ڈسٹرکٹ جج نکولس گرافیس نے گزشتہ ماہ استغاثہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ مقدمہ واپس لینے کی وجوہات عدالت کے سامنے پیش کرے۔
عدالتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں استغاثہ نے اڈانی کے خلاف کمزور بنیادوں پر مقدمہ قائم کیا، جس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ دستاویز کے مطابق فردِ جرم سابق انتظامیہ کے آخری دنوں میں محض نام بدنام کرنے کے مقصد سے منظرعام پر لائی گئی تھی، جبکہ مقدمے کے باقاعدہ ٹرائل تک پہنچنے کا کوئی حقیقی امکان موجود نہیں تھا۔
محکمہ انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی حکام کو ایسے غیر ملکی معاملات میں فوجداری کارروائی نہیں کرنی چاہیے جن میں نہ کسی امریکی کمپنی کا کردار ہو، نہ قومی سلامتی متاثر ہوتی ہو اور نہ ہی کسی مجرمانہ تنظیم کا تعلق ہو۔ دستاویز میں کہا گیا کہ مبینہ رشوت بھارتی شہریوں نے بھارتی کمپنیوں کی جانب سے بھارتی حکام کو دی تھی، جس میں کسی امریکی مفاد کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
یاد رہے کہ 2024 میں گوتم اڈانی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی کمپنی کے سولر توانائی منصوبے کی منظوری حاصل کرنے کے لیے بھارتی سرکاری حکام کو رشوت دینے کی سازش کی اور بعد ازاں امریکی سرمایہ کاروں کو کمپنی کی انسدادِ بدعنوانی پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کیا۔ تاہم اڈانی گروپ نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔