ایران جاپان کو تیل فروخت کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، خریداروں نے پابندیوں سے طویل مدت کے لیے استثنیٰ کا مطالبہ کر دیا
- امریکی محکمۂ خزانہ کا موجودہ پابندیوں سے استثنیٰ خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دیتا ہے
تین ایرانی اور مغربی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے جاپانی کمپنیوں کو تیل فروخت کرنے کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں، تاہم ممکنہ خریدار امریکی پابندیوں سے استثنیٰ کی مدت میں توسیع اور خلیج میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔
امریکہ نے جون میں ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دے دی تھی، جس کے تحت کئی دہائیوں سے عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ یہ اقدام تہران کے ساتھ حتمی امن معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں کیا گیا، جس کے بدلے ایران سے جوہری تنصیبات کے معائنے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی سے متعلق یقین دہانیاں حاصل کرنا مقصود ہے۔
حالیہ برسوں میں ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار چین رہا ہے، کیونکہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد پابندیاں سخت ہونے پر جنوبی کوریا، جاپان، بھارت اور یورپ کے خریداروں نے ایرانی تیل کی خریداری روک دی تھی۔
امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے جاری موجودہ پابندیوں سے استثنیٰ کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت ہے۔
جاپان کی وزارتِ خارجہ اور امریکی محکمۂ خزانہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔