پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ ایران مذاکرات میں مثبت پیش رفت
- فریقین نے آئندہ بھی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، دفتر خارجہ
قطر اور پاکستان کے ثالثوں نے آج دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کا سلسلہ مکمل کیا، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر مثبت پیش رفت ہوئی۔ یہ پیش رفت لیک لوسرن سربراہی اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کی بنیاد پر کی گئی۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فریقین نے آئندہ بھی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اگلا اجلاس ایران کے سابق سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کے بعد جلد از جلد منعقد کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ نے بدھ کو بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور مکمل کیا، تاہم مستقل امن کی جانب کسی نمایاں پیش رفت کے آثار سامنے نہیں آئے۔ مذاکرات میں بنیادی طور پر ان امور پر بات چیت کی گئی جنہیں دو ہفتے قبل طے شدہ سمجھا جا رہا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے دوحہ میں دو روز تک آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایران کے لیے مالی مراعات پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ دونوں نکات جون میں طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے بنیادی ستون تھے، جبکہ نسبتاً پیچیدہ معاملات پر بات نہیں ہوئی۔
ادھر واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ پابندیوں سے متعلق پیش رفت کر رہے ہیں، جو فروری میں جنگ شروع کرنے کی بنیادی وجہ تھی۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے حوالے سے معاملات اچھی سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ ملاقاتیں بہت مثبت رہی ہیں، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی تکنیکی نوعیت کے باعث جوہری پروگرام پر اس دور میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ جوہری مسئلہ بعد کے مذاکرات میں زیر بحث آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یقیناً ہمیں جوہری معاملے پر تشویش ہے، اور ہم جلد اس پر بات چیت شروع کریں گے۔
مذاکرات کے دوران امریکی اور ایرانی وفود کی براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی، بلکہ دونوں فریقوں نے قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے الگ الگ رابطہ رکھا۔