امریکہ ایران مذاکرات کے بعد خام تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
- برینٹ کروڈ کے فیوچرز 1.24 ڈالر یا 1.73 فیصد کی کمی کے ساتھ 70.33 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
قطر کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین آبنائے ہرمز کے معاملے پر مذاکرات میں پیشرفت کے اعلان کے بعد سپلائی معطلی کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے دن تقریباً 2 فیصد تک گر گئیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 1.24 ڈالر (1.73 فیصد) کی کمی کے ساتھ 70.33 ڈالر، جبکہ امریکی خام تیل 1.38 ڈالر (2.01 فیصد) کی گراوٹ کے ساتھ 67.20 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو فروری کے بعد ان کی کم ترین سطح ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق دوحہ مذاکرات میں جون کی جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق امور پر مثبت پیشرفت ہوئی ہے، تاہم مستقل امن کے حوالے سے تاحال کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی۔ دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کا اگلا دور ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات (9 جولائی) کے بعد ہوگا۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی بلا تعطل فراہمی، اسٹریٹیجک ذخائر سے تیل کے اخراج اور چین کی جانب سے طلب میں متوقع اضافہ نہ ہونے کے باعث قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی راس تنورہ بندرگاہ سے ایک کروڑ بیرل سعودی تیل لے جانے والے 5 سپر ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جبکہ سعودی آرامکو نے ایشیا میں فروخت تیز کرنے کے لیے اسپاٹ پرائسنگ کا طریقہ کار اپنایا ہے۔ دوسری جانب امریکہ میں مقامی ریفائنریوں کی مانگ میں اضافے کے باعث خام تیل اور پیٹرول کے ذخائر میں کمی دیکھی گئی ہے۔
سوئس بینک یو بی ایس نے برینٹ خام تیل کے لیے اپنے مستقبل کے تخمینے کم کرکے 80 ڈالر فی بیرل کر دیے ہیں، جبکہ ایچ ایس بی سی کا کہنا ہے کہ جولائی میں اسٹریٹجک ذخائر کی ریلیز ختم ہونے کے بعد قیمتیں دوبارہ 80 ڈالر تک جا سکتی ہیں۔ دیگر خبروں کے مطابق نائیجیریا انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) میں شامل ہونے والا پہلا اوپیک ملک بن گیا ہے، جبکہ یوکرینی افواج نے روس کے علاقے میں واقع لوک آئل کی ریفائنری پر حملہ کیا ہے۔