پاکستان نے افغانستان میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں سے متعلق بھارت کے بیانات مسترد کر دیے
- پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔
پاکستان نے بدھ کے روز افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی حالیہ کارروائیوں سے متعلق بھارت کے بیان کو ”بے بنیاد“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ نئی دہلی اپنے علاقائی طرزِ عمل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
میڈیا کے سوالات کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بیان میں کہا کہ پاکستان، بھارتی وزارتِ خارجہ کے 29 جون کے اس بیان کو مسترد کرتا ہے جس میں افغانستان میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں پر تبصرہ کیا گیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی یہ کارروائیاں ”جائز، ہدف پر مرکوز اور متناسب“ تھیں۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ بھارت ماضی سے اپنے ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتا رہا ہے اور وہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کو بھی اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دبا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید الزام لگایا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی فعال معاونت اور سرپرستی کر رہا ہے اور خطے میں ایک ”تخربی کردار“ ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا، ”پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کو پذیرائی نہیں ملنی چاہیے۔“
دفتر خارجہ نے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام مناسب اقدامات جاری رکھے گا۔