سندھ میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کوریج میں 1,374 فیصد اضافہ
- آئندہ مرحلہ وار صوبے کی تمام 26 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیوں کو اس انشورنس نظام کے تحت لایا جائے گا، ایس ای سی پی
پاکستان میں سڑک حادثات کے متاثرین کو مالی تحفظ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)اور حکومتِ سندھ کی مشترکہ کوششوں سےصوبےمیں تمام رجسٹرڈ موٹر گاڑیوں کے لیے لازمی تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کے نفاذ پر عملدرآمد تیزی سے جاری ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق اس اقدام کے ابتدائی نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں اور صرف تین ماہ کے دوران تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس پالیسیوں کی تعداد میں 1,374 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں تین ماہ قبل تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کی صرف 11 ہزار200 پالیسیاں فعال تھیں، تاہم حکومتی اقدامات اور لازمی انشورنس کے نفاذ کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 1 لاکھ 65 ہزار 64 ہو گئی ہے۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلہ وار صوبے کی تمام 26 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیوں کو اس انشورنس نظام کے تحت لایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
کمیشن کے مطابق اس اسکیم کا بنیادی مقصد ٹریفک حادثات متاثرین اور انکے اہل خانہ کو فوری مالی امداد فراہم کرنا ہے جبکہ نو فالٹ کمپنسیشن کے نظام کے تحت حادثے کی ذمہ داری کے تعین سے قبل بھی متاثرہ افراد یا ان کے ورثا کو معاوضہ دیا جا سکے گا۔
اس پالیسی کے تحت حادثے میں وفات کی صورت میں 7 لاکھ روپے جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے تک فوری مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا، جس سے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی سہارا مل سکے گا۔
ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں ہر سال 9 ہزار سے 10 ہزار رپورٹ شدہ ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں، جن میں متعدد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں یا مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں، ایسے میں لازمی تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس نہ صرف متاثرین کو بروقت مالی مدد فراہم کرے گی بلکہ ٹریفک حادثات کے بعد قانونی اور مالی پیچیدگیوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی ۔