ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا نیپرا ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر اظہارِ تشویش
- نیپرا کی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے، وزیراعظم نوٹس لیں، ٹی آئی پی کا مطالبہ
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے نیپرا ایکٹ 1997 میں مجوزہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ ان ترامیم کے ذریعے پاور ڈویژن کو ایسے اختیارات دیے جا رہے ہیں جن سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ کو لکھے گئے خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کہا کہ اسے نیپرا ترمیمی بل 2026 کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے، جس میں وفاقی کابینہ کے اختیارات کمزور کرنے اور ریگولیٹری فیصلوں پر پاور ڈویژن کے اثر و رسوخ سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
شکایت کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف ریگولیٹری معاملات کی منظوری کے لیے قانون میں موجود اصطلاح وفاقی حکومت کو پاور ڈویژن یا متعلقہ ڈویژن سے تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق اس تبدیلی سے اختیارات ایک ہی وزارت میں مرتکز ہو جائیں گے، جس سے شفافیت، اجتماعی نگرانی اور احتساب کا نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا کہنا ہے کہ نیپرا کے فیصلوں کو وزارتی یا سیاسی دباؤ سے آزاد رہنا چاہیے تاکہ ٹیرف اور دیگر ریگولیٹری فیصلے غیر جانبدارانہ، تکنیکی بنیادوں پر اور صارفین کے مفاد میں کیے جا سکیں۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر نیپرا کی خودمختاری متاثر ہوئی تو مستقبل میں حکومتوں کے لیے ٹیرف کے فیصلوں پر اثرانداز ہونا یا مخصوص فریقین کو ترجیح دینا آسان ہو جائے گا۔
ادھر اطلاعات کے مطابق ورلڈ بینک نے بھی نیپرا ایکٹ 1997 اور الیکٹرسٹی ایکٹ 1910 میں مجوزہ ترامیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان سے ریگولیٹر کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔ کاروباری اور صنعتی حلقوں نے بھی ان ترامیم پر تشویش ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد صرف انتظامی پیچیدگیوں اور غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ ہے۔ ڈویژن کے مطابق مصطفیٰ امپیکس فیصلے کے بعد قوانین میں تکنیکی نوعیت کی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ معمول کے معاملات کو بلا ضرورت وفاقی کابینہ کے سامنے پیش نہ کرنا پڑے، جبکہ ان ترامیم سے نیپرا کے بنیادی ریگولیٹری اختیارات یا قانونی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026