جماعت اسلامی کا بلدیہ عظمیٰ کے لیے 300 ارب روپے کا شیڈو بجٹ پیش
- دہلی کا بجٹ 520 ارب اور ممبئی کا 2200 ارب روپے ہے، ان کے مقابلے میں کراچی کا بجٹ انتہائی کم ہے، اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) میں جماعتِ اسلامی کے اپوزیشن بلاک نے مالیاتی سال 27-2026 کے لیے 300 ارب روپے کا شیڈو بجٹ پیش کرتے ہوئے موجودہ انتظامیہ کے مجوزہ 60 ارب روپے کے بجٹ کو شہر کی ضروریات کے لیے انتہائی ناکافی قرار دیا ہے۔
فاران کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ کراچی کا بجٹ خطے کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ ممبئی کا سالانہ بجٹ 2.2 ٹریلین (2200 ارب) روپے ہے، جبکہ دہلی کا بجٹ 520 ارب روپے ہے۔ کراچی کے لیے 300 ارب روپے کا بجٹ بھی ممبئی کے مقابلے میں سات گنا چھوٹا ہوگا۔
اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ موٹر وہیکل ٹیکس، انفرااسٹرکچر سیس اور بیٹرمنٹ چارجز سے حاصل ہونے والی آمدنی مقامی حکومتوں کو منتقل کی جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق میئر عبدالستار افغانی نے بھی موٹر وہیکل ٹیکس کی منتقلی کے لیے تاریخی مہم چلائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی انفرااسٹرکچر سیس کی مد میں سالانہ 180 ارب روپے پیدا کرتا ہے، یہ رقم اور لگ بھگ 100 ارب روپے کے صوبائی فنانس کمیشن (پی ایف سی) گرانٹس کے ایم سی کو ملنے چاہئیں۔ اس وقت کے ایم سی اپنے ذرائع سے صرف 6 ارب روپے جمع کرتی ہے جسے بڑھا کر 10 ارب کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی شرح مبادلہ کے حساب سے دیکھا جائے تو 2005 میں پیش کیا گیا بجٹ موجودہ کے ایم سی بجٹ سے تقریباً تین گنا بڑا تھا۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے مالیاتی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر یونین کمیٹی کو سالانہ کم از کم 10 کروڑ روپے ملنے چاہئیں۔ انہوں نے میئر مرتضیٰ وہاب کے کے ایم سی کو خود کفیل بنانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے بلدیاتی حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پانی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ جیسے محکموں کو آئین اور سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق منتخب شہری حکومت کے ماتحت کرنے پر بھی زور دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026