کاروبار اور معیشت

کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کی بندش، اپٹما کا اظہارِ تشویش، فوری قبضہ واپس کرانے کا مطالبہ

  • عمارت کی مسلسل بندش سے پاکستان کی کپاس اور ٹیکسٹائل صنعت متاثر ہو رہی ہے، چیئرمین کامران ارشد
شائع June 26, 2026 اپ ڈیٹ June 26, 2026 02:34pm

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن اور اس کے قانونی کرایہ داروں کو تاریخی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کا قبضہ فوری طور پر واپس دلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت کی مسلسل بندش سے پاکستان کی کپاس اور ٹیکسٹائل صنعت متاثر ہو رہی ہے ۔

اپنے بیان میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ نو دہائیوں سے زائد عرصے سے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن ملک کی کپاس کی معیشت کا اہم ستون رہی ہے اور اس نے تجارتی سہولت کاری، مارکیٹ میں شفافیت، قیمتوں کے تعین، معیار بندی اور کپاس و ٹیکسٹائل سے وابستہ فریقین کے درمیان مثر رابطہ کاری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔

بیان کے مطابق کاٹن ایکسچینج بلڈنگ تاریخی طور پر پاکستان کی کپاس کی تجارت کا مرکز رہی ہے جہاں تاجر، بروکرز، برآمد کنندگان، مالیاتی ادارے اور کپاس و ٹیکسٹائل ویلیو چین سے وابستہ متعدد کاروباری سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔

اپٹما نے موقف اختیار کیا کہ عمارت میں سرگرمیوں کی طویل بندش کے باعث بڑی تعداد میں متعلقہ کاروباری حلقے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک ایسے ادارے کی کارکردگی کو نقصان پہنچا ہے جو کئی نسلوں سے ملکی کپاس کی صنعت کی خدمت کر رہا ہے ۔

ایسوسی ایشن نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے اور قانونی ریلیف کی روشنی میں کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کا قبضہ فوری طور پر کراچی کاٹن ایسوسی ایشن اور اس کے کرایہ داروں کے حوالے کیا جائے تاکہ ادارہ دوبارہ مکمل فعال ہو سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026