دنیا

زلزلے کے بعد وینزویلا میں افراتفری، سڑکوں اور اسپتالوں میں زندگی بچانے کی جدوجہد

  • ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کرسکتی ہے، امریکی جیولوجیکل سروے
شائع June 26, 2026 اپ ڈیٹ June 26, 2026 02:22pm

وینزویلا میں آنے والے دو تباہ کن زلزلوں کے تقریباً 24 گھنٹے بعد بھی ساحلی شہر لاگوائرا کے رہائشی اپنے پڑوسیوں کو بچانے کے لیے اپے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔

کارلوس بورگیس نے کہا کہ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں کر رہے ہیں لیکن آلات کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ ملبہ ہٹانے کے لیے بیک ہو مشینوں جیسی بھاری مشینری دستیاب نہیں جس کے باعث کنکریٹ کے ان بڑے ڈھیروں کو ہٹانا مشکل ہو رہا ہے۔

ان کی ٹیم نے ایک عمارت سے تین افراد کو بحفاظت نکال لیا جبکہ جائے وقوعہ پر ایک لاپتہ لڑکے کی والدہ سمیت دیگر پریشان حال اہلِ خانہ بے چینی سے اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر رہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے ماڈلز کے مطابق بدھ کو دارالحکومت کراکس اور اس کے گردونواح میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کرسکتی ہے۔ قائم مقام صدر ڈلسی روڈریگز کی حکومت نے اب تک تقریباً 200 افراد کی ہلاکت اور 1,520 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

لا گوائرا کے لوس کوریلیس محلے کے رہائشی ارجینیس مارٹنیز جو ملبے کے ڈھیر میں اپنے ایک رشتہ دار کی تلاش میں مصروف تھے نے کہا کہ کیا فوج کو طلب نہیں کیا جا سکتا؟ سب کو آکر امدادی کاموں میں حصہ لینا چاہیے۔ فوجیوں کو بکتر بند گاڑیوں میں لایا جائے اور متاثرین کی مدد کی جائے۔ جہاں سے بھی ممکن ہو، ٹریکٹر اور بھاری مشینری فراہم کی جائے۔

رات کے وقت گھریلو گیس کی فراہمی معطل ہونے کے باوجود ملبے کے بعض حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ خوفزدہ رہائشی جن میں سے اکثر کے پاس پناہ لینے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں تھی، گلیوں میں سمٹ کر بیٹھے رہے یا تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں جھانک کر کسی زندہ بچ جانے والے کی تلاش کرتے رہے۔

حکومت جس کے مطابق بنیادی طور پر لا گوائرا میں 250 عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں کا کہنا ہے کہ اسپین، امریکہ، میکسیکو اور قطر سے امدادی سامان پہنچ رہا ہے جبکہ نجی شعبے سے امدادی کارروائیوں میں معاونت کے لیے بیک ہو مشینیں فراہم کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

دکانوں پر لوٹ مار کے واقعات

لاگوائرا کے کچھ علاقوں میں لوگ خوراک اور پانی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے, رائٹرز کی ایک ٹیم نے کم از کم دو دکانوں پر لوٹ مار کے واقعات بھی دیکھے۔

شہر کا جوزے ماریا ورگاس اسپتال زخمیوں سے بھرا ہوا تھا اور کچھ مریضوں کا علاج اسپتال کے باہر کیا جا رہا تھا جہاں پولیس عمارت میں داخلے کو محدود کررہی تھی۔موجود حکام نے صحافیوں کو کوئی بھی معلومات دینے سے انکار کردیا۔

60 سالہ بیٹرس روڈریگز نے کہا کہ یہ ایک المیہ ہے۔ ان کے بھتیجے کی ٹانگیں اسپتال میں کاٹنی پڑیں کیونکہ وہ زلزلوں کے دوران ملبے تلے دب گیا تھا۔ ان کا ایک اور بھتیجا جس کی عمر 6 سال تھی،اس حادثے میں ہلاک ہو گیا۔

فوج کی کمان نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ مسلح افواج لاگوائرا میں فیلڈ اسپتال قائم کر رہی ہے جہاں ہنگامی سرجریز کی جاسکیں گی۔ جمعرات کو شہر میں موجود رائٹرز کی ایک ٹیم نے مقامی اسٹیڈیم کے قریب ایک فوجی قافلے کو امدادی کارروائیوں میں مصروف دیکھا۔

دیگر مقامات پر بھی اسپتال شدید مشکلات کا شکار تھے۔ مورون کے ایک چھوٹے سے اسپتال میں اپنی 24 گھنٹے کی ہنگامی ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹر آگسٹو رامیرز بنیادی طبی سامان کی قلت کا شکار نظر آئے۔