زلزلہ زدہ وینزویلا میں غیر ملکی امدادی ٹیموں کی آمد، ہلاکتیں 589 ہو گئیں، متعدد لاپتا
- حکومت کا سینکڑوں افراد کے ملبے تلے دبے اور لاپتا ہونے کا خدشہ، 589 ہلاکتوں اور 2,980 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوگئی
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس اور اس کے مضافات میں تباہ کن جڑواں زلزلوں کے تقریباً دو دن بعد جمعہ کو غیر ملکی امدادی ٹیمیں اور امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔ زلزلے کے باعث کئی علاقے ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں، جہاں مقامی لوگ اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کو بچانے کے لیے خود ملبہ ہٹانے پر مجبور ہیں۔
حکومت کے مطابق 589 افراد کی ہلاکت اور 2,980 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے اور لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد کا سراغ لگانے کے لیے بنائی گئی ایک ویب سائٹ پر جمعہ کی صبح تک 50,000 افراد کا اندراج کیا جا چکا تھا۔
بدھ کی شام جب لوگ عوامی تعطیل کا لطف اٹھا رہے تھے کاراکاس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے، جنہیں لاطینی امریکہ کی جدید تاریخ کے بڑے ترین زلزلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے اس قدرتی آفت میں 10,000 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کی حکومت نے، جنہوں نے جنوری میں امریکی چھاپے کے دوران اپنے پیشرو کی گرفتاری کے بعد اقتدار سنبھالا تھا، بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم جمعرات کو امدادی سرگرمیاں سست اور غیر مساوی نظر آئیں، جہاں فائر فائٹرز، پولیس، سول پروٹیکشن اور فوج کے اہلکار کچھ مقامات پر تو سڑکوں پر موجود تھے لیکن دیگر علاقوں میں ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔
کاراکاس کے قریب ساحلی شہر لا گوائرا زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں بلند و بالا اپارٹمنٹس سمیت کم از کم 100 عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ پریشان حال مقامی لوگ اپنے ہاتھوں یا جو بھی اوزار ملے، ان کی مدد سے ملبہ ہٹانے میں مصروف رہے اور انہوں نے سرکاری امداد اور مناسب مشینری کی عدم دستیابی پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا، اگرچہ سرکاری ٹیلی ویژن پر صدر روڈریگز کو دوپہر کے وقت متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے اور امداد کا وعدہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
ایک رہائشی خاتون یامیلتھ جمینیز نے اپنے 19 سالہ بیٹے کے بارے میں روتے ہوئے بتایا، جو ان کی سات منزلہ اپارٹمنٹ بلڈنگ کے ملبے تلے دبا ہوا ہے کہ وہ سیمنٹ کے بلاکس کے نیچے پھنسا ہوا ہے اور اسے نکالنے کے لیے یہاں کوئی مشینری موجود نہیں ہے ۔
ملبہ ہٹانے والوں کے علاوہ عام وینزویلینز نے بھی زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے رضاکارانہ طور پر قدم بڑھایا ہے اور جمعرات کی شام کاراکاس سے امدادی سامان لے کر موٹر سائیکل سواروں کے قافلے لا گوائرا پہنچے۔ اسی طرح والینسیا شہر سے بھی درجنوں افراد خوراک اور دیگر ضروری سامان لے کر رات بھر موٹر سائیکلوں پر سفر کر کے متاثرہ علاقوں میں پہنچے۔
زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے عالمی برادری میدان میں آگئی
دہائیوں کی بین الاقوامی تنہائی، سیاسی جبر اور معاشی زوال کے دوران وینزویلا کے مخالف رہنے والے ممالک سمیت کئی غیر ملکی امدادی ٹیمیں جمعرات کی رات دیر گئے پہنچنا شروع ہو گئیں، جن میں ڈومینیکن ریپبلک کا ایک چھوٹا دستہ سب سے پہلے لا گوائرا پہنچا۔ میکسیکو نے 250، ایل سلواڈور نے 188 اور اسپین نے تقریباً 100 امدادی اہلکار بھیجے ہیں، جبکہ کولمبیا کی فضائیہ کا طیارہ 63 ریسکیو اہلکاروں کو لے کر جمعہ کی صبح روانہ ہوا۔ سوئٹزرلینڈ اور جرمنی نے بھی امدادی ٹیمیں روانہ کی ہیں، جن کے پاس کھوجی کتے، آواز کا پتہ لگانے والے آلات اور دیگر مخصوص سازوسامان موجود ہے۔
امریکہ نے 15 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے، جبکہ کولمبیا، سوئٹزرلینڈ اور ایل سلواڈور جیسے دیگر ممالک بھی آلات اور سامان بھیج رہے ہیں۔ واشنگٹن نے اس سوشلسٹ ملک پر عائد دیرینہ پابندیوں میں نرمی کی ہے، تاکہ زلزلے کی امداد پہنچائی جا سکے جو بصورت دیگر ممنوع تھی اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن امدادی ٹیمیں بھیجے گا جبکہ پینٹاگون کاراکاس کے متاثرہ ہوائی اڈے کی بحالی میں مدد کرے گا۔ عبوری صدر روڈریگز نے جمعہ کی صبح تعاون پر تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ غیر ملکی ٹیموں کو مختلف علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
یہ زلزلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک دہائیوں کے معاشی اور سیاسی بحران کی وجہ سے پہلے ہی کمزور ہو چکا ہے، جس نے مقامی لوگوں کو غریب بنا دیا، لاکھوں افراد کو ہجرت پر مجبور کیا اور بنیادی انفرااسٹرکچر اور خدمات کو تباہ کر دیا۔ چند ماہ قبل ملازمت سے محروم ہونے والی 50 سالہ سہیل سارکیز نے بتایا کہ میری عمارت اب رہنے کے قابل نہیں رہی اور اب میرے پاس کچھ نہیں بچا، صرف میں اور میرا بیٹا ہیں اور ملک میں میرا کوئی خاندان بھی نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے تارکین وطن کے ادارے کے مطابق اس آفت سے تقریباً 70 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں اور ادارہ ہنگامی پناہ گاہیں اور دیگر امدادی سامان فراہم کر رہا ہے۔ ایک ورکشاپ کے مالک 64 سالہ پیڈرو پیریز نے بتایا کہ ہم نے اپنا گھر اور کاروبار سب کچھ کھو دیا ہے اور جمعرات کی رات میں نے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ سڑک پر گزاری، ہمیں امید ہے کہ امداد جلد پہنچے گی ۔
زلزلے کے مرکز کے قریب کارابوبو ریاست کے ساحلی قصبے مورون میں مکانات تباہ ہو گئے ہیں اور شہریوں کو پانی اور بجلی کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ خاندان جو کچھ بچا سکتے تھے، بشمول گدے، ٹیلی ویژن اور واشنگٹن مشینیں، ملبے سے نکال رہے ہیں۔ اوپیک کے رکن ملک کے اہم ترین آئل سیکٹر کے حوالے سے غیر ملکی توانائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے آپریشنز کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا اور تیل کا انفرااسٹرکچر بڑی حد تک محفوظ رہا ہے۔ دوسری جانب کاراکاس اسٹاک ایکسچینج بند رہی اور اسے امدادی سامان جمع کرنے کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل وینزویلا کی جدید تاریخ کا مہلک ترین زلزلہ 1967 میں آیا تھا جس میں 240 افراد ہلاک ہوئے تھے۔