مارکٹس

غیر قانونی سیمنٹ فیکٹری سیل، مینوفیکچررز کا خیرمقدم

  • غیرقانونی سیمنٹ سازی نہ صرف ٹیکس چوری کے ذریعے خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ماحولیاتی، معیار، حفاظت اور دیگر ریگولیٹری تقاضوں کو نظرانداز کرتی ہے
شائع June 24, 2026 اپ ڈیٹ June 24, 2026 02:08pm

آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے سرگودھا فیصل آباد روڈ پر روہڑی سیمنٹ سے منسلک میسرز ریڈ بُل سیمنٹ کے نام سے کام کرنے والی ایک غیر قانونی سیمنٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کے خلاف متعدد ایجنسیوں کے مشترکہ کریک ڈاؤن کا خیرمقدم کیا ہے۔

سیمنٹ مینوفیکچررز نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (ای پی سے) اور ڈسٹرکٹ انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے میسرز ریڈ بُل کو تحریری احکامات کے ذریعے اس غیر مجاز یونٹ کے خلاف بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرنے پر ان کی کوششوں کو سراہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، متعلقہ حکام نے تفصیلی معائنے کے بعد پایا کہ یہ یونٹ قانون کے تحت درکار لازمی منظوریوں، رجسٹریشن، ماحولیاتی کلیئرنس اور دیگر قانونی اجازت ناموں کے بغیر کام کر رہا تھا جس کے پیشِ نظر حکام نے احاطے کو سیل کرکے آپریشن معطل کردیا ہے۔

ایسوسی ایشن نے منگل کو یہاں جاری اپنے بیان میں قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور جائز کاروباروں کے تحفظ کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کے عزم کو سراہا۔

بیان میں کہا گیا کہ غیرقانونی سیمنٹ سازی نہ صرف ٹیکس چوری کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ماحولیاتی، معیار، حفاظت اور دیگر ریگولیٹری تقاضوں کو نظرانداز کرکے منصفانہ مسابقت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جن کی پابندی قانون پر عمل کرنے والے مینوفیکچررز پر لازم ہوتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026