عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے باعث صارفین کو براہِ راست ریلیف منتقل کیے جانے کے بعد، حکومتِ پاکستان نے موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں، پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور مال بردار گاڑیوں کے لیے ایندھن سبسڈی پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ فیصلہ قومی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کے ساتویں اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کی۔ اس حوالے سے پیر کو جاری کیے گئے سرکاری اعلامیے میں یہ بات بتائی گئی۔

کمیٹی نے تمام صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان (جی بی) اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں فیول سبسڈی اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی نے نوٹ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کا فائدہ پہلے ہی مقامی صارفین کو کم گھریلو قیمتوں کی صورت میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

بدلتے ہوئے مارکیٹ حالات کے پیش نظر، کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے سبسڈی پروگرام ختم کرنے پر اتفاق کیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کمیٹی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے نفاذ کے دوران وفاق، صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے درمیان مسلسل رابطہ کاری برقرار رہی۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والے اسباق کو دستاویزی شکل دی جائے، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور ترسیل کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے، اور مستقبل میں عوامی سہولت کے منصوبوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وزارتِ پیٹرولیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وفاقی سیکرٹریز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، اور تمام صوبوں، جی بی اور اے جے کے کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔