ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کردی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ کروڈ فیوچرز 54 سینٹ (0.67 فیصد) اضافے کے ساتھ 81.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ میں کمی اور امریکا و ایران کے درمیان جاری عبوری امن معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات میں ابتدائی مشکلات بتائی جا رہی ہیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 54 سینٹ (0.67 فیصد) اضافے کے ساتھ 81.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ دورانِ ٹریڈنگ یہ 82.30 ڈالر کی بلند ترین سطح تک بھی گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 2.02 ڈالر (2.64 فیصد) اضافے کے ساتھ 78.62 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اگلے ماہ کا فعال کنٹریکٹ بھی 1.43 ڈالر بڑھ کر 77.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کے اعلان کے بعد اتوار کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام اسرائیل اور امریکا کی جانب سے عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ نے آبنائے ہرمز کے کھلنے کی امیدیں قبل از وقت وابستہ کر لی تھیں، جبکہ ایران اس راستے کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی کشیدہ رہے، جن میں لبنان میں جاری لڑائی اور خطے کی صورتحال اہم موضوعات رہے۔
ادھر لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔
تاہم گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کمی بھی دیکھی گئی تھی، جس کی وجہ خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے تیل کے کارگو کی ممکنہ ریلیز اور ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی کی توقعات تھیں۔ عراق اور دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے بھی تیل کی سپلائی بڑھانے کے اشارے دیے گئے ہیں، جبکہ عراق نے پیداوار بتدریج 4.2 سے 4.3 ملین بیرل یومیہ تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔