کاروبار اور معیشت

قومی اسمبلی کمیٹی نے رجسٹرڈ گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں اضافے کی منظوری دیدی

  • یہ منظوری بجٹ سے متعلق ٹیکس اقدامات پر غور کے دوران دی گئی
شائع June 21, 2026 اپ ڈیٹ June 21, 2026 11:08am

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ہفتے کے روز اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں رجسٹرڈ گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں نمایاں اضافے کی منظوری دے دی، تاہم ارکانِ پارلیمنٹ نے اس شدید اضافے اور اس کے گاڑی مالکان پر ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

یہ منظوری بجٹ سے متعلق ٹیکس اقدامات پر غور کے دوران دی گئی، جہاں حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت اس وقت اسلام آباد میں ٹوکن ٹیکس کی مد میں سالانہ تقریباً 3.9 ارب روپے وصول کر رہی ہے، جبکہ نظرثانی شدہ نرخوں کے بعد یہ آمدن بڑھ کر تقریباً 5.2 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

کمیٹی نے تاہم اس بڑے اضافے کی وجوہات پر سوال اٹھایا اور متعدد ارکان نے استفسار کیا کہ حکومت گاڑی مالکان پر پہلے سے زیادہ بوجھ کیوں ڈال رہی ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ کے حکام نے اس تجویز کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ٹوکن ٹیکس کی شرح 2019 کے بعد سے نہیں بڑھائی گئی تھی اور یہ دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب کے مقابلے میں کافی کم رہی ہے، حالانکہ اس دوران گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

منظور شدہ نئے ڈھانچے کے مطابق 1,001 سی سی سے 2,000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس گاڑی کی انوائس ویلیو کے 0.25 فیصد کے حساب سے لیا جائے گا، جبکہ 2,001 سی سی اور اس سے زیادہ انجن والی گاڑیوں پر 0.35 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

حکام نے موازنہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2000 سے 2010 کے دوران تقریباً 10 لاکھ روپے مالیت اور 1,001 سے 1,300 سی سی کی گاڑی پر تقریباً 2,500 روپے ٹوکن ٹیکس بنتا تھا، جو موجودہ وقت میں تقریباً 1500 روپے ہے۔

تاہم اب اسی نوعیت کی گاڑی کی اوسط قیمت 5.2 ملین روپے تک پہنچ چکی ہے، جس کے تحت سالانہ ٹوکن ٹیکس تقریباً 13 ہزار روپے ہو جائے گا۔

اسی طرح 1,301 سے 1,500 سی سی کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس بڑھ کر تقریباً 16,250 روپے اور 1,501 سے 2,000 سی سی گاڑیوں پر تقریباً 20 ہزار روپے سالانہ ہو جائے گا۔

زیادہ انجن کی گنجائش والی گاڑیوں پر ٹیکس بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ 2,001 سے 2,500 سی سی گاڑیوں پر تقریباً 35 ہزار روپے جبکہ 2,500 سی سی سے زائد گاڑیوں پر سالانہ ٹوکن ٹیکس تقریباً 70 ہزار روپے تک ہوگا۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں موجودہ شرحیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب نے بھی 2026-27 کے لیے 2,000 سی سی تک گاڑیوں پر 0.3 فیصد اور اس سے بڑی گاڑیوں پر 0.4 فیصد ٹوکن ٹیکس کی منظوری دی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مختلف انجن کیٹیگریز کے لیے فکسڈ سالانہ ٹوکن ٹیکس لیا جاتا ہے، جبکہ اسلام آباد میں مجوزہ نظام ٹیکس کو گاڑی کی انوائس ویلیو سے منسلک کرتا ہے، جس سے یہ موجودہ مارکیٹ قیمتوں کی زیادہ عکاسی کرتا ہے۔

کئی ارکان نے اس بڑے اضافے پر تحفظات کا اظہار کیا اور 3.9 ارب سے 5.2 ارب روپے آمدن کے تخمینے پر بھی وضاحت طلب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ریونیو بڑھانے کے ساتھ ساتھ عوام کی مالی استطاعت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

ان تحفظات کے باوجود کمیٹی نے بالآخر اس تجویز کی منظوری دے دی، جس کے بعد آئندہ مالی سال سے وفاقی دارالحکومت میں نظرثانی شدہ ٹوکن ٹیکس نظام نافذ ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026