لائف اسٹائل

امریکی ٹی وی کامیڈی میں نمایاں جدت کے حامل اور بااثر ہدایت کار جیمز بیروز 85 برس کی عمر میں چل بسے

  • بیروز نے ٹیلی ویژن میں بہترین کارکردگی پر 11 ایمی ایوارڈز اپنے نام کیے اور مقبول ترین پروگراموں کی ایک ہزار سے زائد اقساط کی ہدایت کاری کی
شائع اپ ڈیٹ

امریکی ہدایت کار اور ٹیلی ویژن کے تخلیق کار جیمز بیروز، جنہوں نے ”فرینڈز“، ”چیئرز“، ”ٹیکسی“ اور متعدد دیگر مقبول کامیڈی ڈراموں کے پسِ پردہ کام کیا، انتقال کر گئے۔ یہ خبر پیپل میگزین نے جمعہ کے روز دی ہے۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔

ان کے اہلِ خانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ” ہم جیمز ’جمی‘ بیروز کی غیر معمولی زندگی اور لازوال ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جو آج اپنے پیاروں کے درمیان پرامن انداز میں انتقال کر گئے۔“ ان کے انتقال کا وقت اور مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔

بیروز نے ٹیلی ویژن میں بہترین کارکردگی پر 11 ایمی ایوارڈز حاصل کیے اور ایک ہزار سے زائد مقبول پروگراموں کی اقساط کی ہدایت کاری کی، جبکہ وہ ہدایت کار، پروڈیوسر اور مصنف کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

وہ 1970 کی دہائی میں اپنے شاندار کیریئر کے آغاز کے ساتھ ہی ملٹی کیمرا سِٹ کام (سیچویشن کامیڈی) کے ابتدائی جدت کاروں میں شمار ہوتے تھے۔ اس دوران انہوں نے ”دی میری ٹائلر مور شو“، ”لاورن اینڈ شرلی“ اور ”دی بوب نیوہارٹ شو“ جیسے ڈراموں کی اقساط کی ہدایت کاری کی۔

انہیں پہلا ایمی ایوارڈ ”ٹیکسی“ کی ہدایت کاری پر ملا، جو نیویارک سٹی کی ایک ٹیکسی کمپنی کے عملے پر مبنی انقلابی کامیڈی تھی، جس میں ڈینی ڈیویٹو، اینڈی کافمین اور ٹونی ڈینزا نے اداکاری کی۔

انہوں نے 236 اقساط کی ہدایت کاری کی اور طویل عرصے کے ساتھی جیمز بروکس کے ساتھ مل کر ”چیئرز“ کو تخلیق کیا، جس سے اس کا اسپن آف ”فریزیئر“ بھی سامنے آیا۔ ان کے دیگر مشہور شوز میں ”دی بگ بینگ تھیوری“، ”مائیک اینڈ مولی“ اور ”تھرڈ راک فرام دی سن“ شامل ہیں۔

حال ہی میں بیروز نے شاذ و نادر ہی اسکرین پر آ کر ”دی کم بیک“ میں بطور خود اداکاری بھی کی، جہاں انہوں نے ”فرینڈز“ کی اسٹار لیزا کُدرو کے ساتھ دوبارہ کام کیا۔ یہ شو ہالی ووڈ میں سِٹ کام کے پس منظر میں کام کرنے والی زندگی پر طنزیہ انداز پیش کرتا ہے۔

ان کے اہلِ خانہ نے مزید کہا کہ ”پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک بیروز ٹیلی ویژن کی تاریخ کے سب سے بااثر اور محبوب ہدایت کاروں میں سے ایک رہے۔ ایک لیجنڈری ڈائریکٹر، مینٹور اور تخلیقی قوت کے طور پر انہوں نے کامیڈی کی کئی نسلوں کی تشکیل کی اور دنیا بھر کے ناظرین کو بے حد خوشی فراہم کی۔“