کاروبار اور معیشت

بجٹ میں سود کی ادائیگیوں پر 8 کھرب مختص، مالیاتی بحران سنگین صورتحال اختیار کرنے کا خدشہ

  • قرضوں کی معیشت ناقابل برداشت، سود ادائیگی ٹیکس وصولیوں کو نگل رہی ہے، برآمدات، صنعت کو ترجیح دینا ہوگی، خرم اعجاز
شائع June 20, 2026 اپ ڈیٹ June 20, 2026 02:39pm

بزنس مین پینل پروگریسو (بی ایم پی پی) کے جنرل سیکرٹری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر خرم اعجاز نے پاکستان کی مالیاتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی پر آنے والا بوجھ قومی معیشت کے لیے خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے اور قرضوں پر سود کی ادائیگیاں ٹیکس آمدن کا نصف سے زائد حصہ ہڑپ کررہی ہیں۔

ایک بیان میں خرم اعجاز نے بجٹ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت نے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 8.054 کھرب روپے مختص کیے ہیں جن میں مقامی قرضوں پر 6.96 کھرب روپے جبکہ بیرونی قرضوں پر 1.07 کھرب روپے شامل ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 15.26 کھرب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کا بڑا حصہ صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی میں صرف ہو جائے گا۔

خرم اعجاز نے سوال اٹھایا کہ آخر معیشت کب تک ایسی نازک مالیاتی صورتحال کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے؟ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ قرضوں پر انحصار کرنے والی حکمت عملیوں پر نظرثانی کی جائے اور ملکی معاشی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف سود کی رقم ہے جبکہ اصل قرضوں کے حجم کا اندازہ لگایا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اپریل 2026 تک مجموعی سرکاری قرضہ بڑھ کر 81.93 کھرب روپے تک پہنچ گیا جو ایک سال قبل 74.94 کھرب روپے تھا۔ اس طرح صرف بارہ ماہ کے دوران قومی قرضوں میں تقریباً 7 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے اندرونی قرضوں پر انحصار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمرشل بینک حکومتی سیکیورٹیز میں محفوظ منافع حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کے باعث سرمایہ پیداواری شعبوں تک منتقل نہیں ہو پاتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بلند شرح سود نہ صرف مالیاتی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی بھی کر رہی ہینتیجتاً صنعتکار پیداواری سرگرمیوں کے بجائے اپنی رقوم بینکوں میں جمع کرانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود کم ہو کر 10.5 فیصد تک آگئی تھی تاہم اب پالیسی ریٹ دوبارہ بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گیا ہے جس سے مالیاتی گنجائش مزید محدود ہو رہی ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ شرح سود میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ صنعتی اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔

خرم اعجاز نے آئی ایم ایف کی اُن پابندیوں کا بھی ذکر کیا جن کے تحت حکومت کے لیے اسٹیٹ بینک سے براہِ راست قرض حاصل کرنا محدود ہو گیا ہے جس کے باعث مالیاتی ضروریات پوری کرنے کا بوجھ کمرشل بینکوں پر منتقل ہو گیا ہے اور حکومتی قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر حکومت اسٹیٹ بینک سے براہِ راست قرض حاصل کر سکتی تو قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ایک حصہ منافع کی صورت میں دوبارہ قومی خزانے میں واپس آ سکتا تھا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو قرضوں پر مبنی مالیاتی نظام سے نکل کر برآمدات پر مبنی ترقی و صنعتی توسیع کی جانب پیشرفت کرنا ہوگی کیونکہ مسلسل قرضوں کا حصول نہ صرف عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا رہی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔