پاکستانی فری لانسرز نے 11 ماہ کے دوران 1 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ آمدن حاصل کی
- اسی عرصے میں گزشتہ مالی سال کے دوران 708 ملین ڈالر کی آمدن ریکارڈ کی گئی تھی
پاکستانی فری لانسرز کی آمدن میں زرمبادلہ کی مد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے تحت رواں مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ان کی کمائی ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو قومی معیشت میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار اور عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں پاکستان کی مضبوط ہوتی پوزیشن کو ظاہر کرتی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق آئی ٹی اور متعلقہ شعبوں میں فری لانسرز کی جانب سے پیدا کردہ زرمبادلہ کی آمدن زیرِ جائزہ مدت کے دوران ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 708 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی، جو سال بہ سال تقریباً 50 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پافلا) کے صدر ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) کو 0.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ فری لانسنگ کمیونٹی کے لیے ایک مثبت اقدام ہے، کیونکہ وہ اپنی آمدن سے کمیشن اور سروس چارجز کی مد میں 25 سے 30 فیصد تک کٹوتیوں کے بعد رقوم وصول کرتے ہیں۔
انہوں نے فری لانسرز کو سہولت دینے کے لیے سوشل میڈیا اور فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کے لیے پیمنٹ کارڈز کے ذریعے غیر ملکی لین دین پر ٹیکس میں کمی کو بھی سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ”پافلا پاکستان کے ہر فری لانسر کے ساتھ کھڑی رہے گی، بہتر پالیسیوں، زیادہ مواقع اور مضبوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے لیے وکالت جاری رکھے گی، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ آئی ٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے۔“
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ فری لانسرز موجود ہیں، جن میں فل ٹائم اور پارٹ ٹائم دونوں پیشہ ور شامل ہیں۔
پافلا کے چیئرمین ابراہیم امین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئے نافذ کیے گئے 5 فیصد ٹیکس کو کینٹینٹ کریئیٹرز پر ختم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد زرمبادلہ کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خصوصاً یوٹیوب پر معلوماتی اور علمی مواد پیش کرنے والے تخلیق کار۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فری لانسرز کے معاشی کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اسی مدت کے دوران نان آئی ٹی فری لانسرز کے ذریعے بھی 533 ملین ڈالر موصول ہوئے، جس سے فری لانسرز کی مجموعی شراکت 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔