پنجاب بجٹ میں اپنے وسائل سے مجموعی آمدن 1209 ارب روپے متوقع رکھی گئی ہے (جس میں صرف 749 ارب روپے ٹیکسز سے اور 461 ملین روپے غیر ٹیکس آمدن سے حاصل ہوں گے) جبکہ گزشتہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینے 820 ارب روپے تھے جو کہ 47.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔
خدمات پر سیلز ٹیکس جو مکمل طور پر صارفین/کلائنٹس کو منتقل کیا جاتا ہے، ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جس کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے، آئندہ سال 521 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے جبکہ موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق یہ 363.5 ارب روپے تھا (اگرچہ موجودہ سال کا بجٹ ہدف 333.5 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا) یعنی 43 فیصد اضافہ۔ اس میں آئی ٹی سروسز، ٹرانسپورٹ اور پروفیشنل سروسز پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ (5 سے بڑھا کر 8 فیصد) شامل ہے، اس کے علاوہ فارن ایکسچینج سروسز پر 3 فیصد نیا ٹیکس بھی شامل کیا گیا ہے (جو ممکنہ طور پر متوسط اور نچلے آمدنی والے طبقے کو متاثر کرے گا) جبکہ ایونٹ مینجمنٹ پر 8 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے (اگرچہ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کو اس میں شامل نہیں کیا گیا)۔
آئندہ مالی سال کے لیے زرعی انکم ٹیکس کی اصل وصولی کا ہدف صرف 12.5 ارب روپے ہے جب کہ گزشتہ سال 3.99 ارب روپے وصول ہوئے تھے (اگرچہ بجٹ کا ہدف 10.5 ارب روپے تھا)۔ تاہم بجٹ میں اس ٹیکس میں اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے: 12.5 ایکڑ سے زیادہ اراضی رکھنے والے افراد اب 1,000 روپے فی ایکڑ فلیٹ ریٹ ادا کریں گے جو کہ پہلے 12.5 سے 25 ایکڑ کے لیے 300 روپے فی ایکڑ، 25 سے 50 ایکڑ کے لیے 400 روپے فی ایکڑ اور 50 ایکڑ سے زائد کے لیے 500 روپے فی ایکڑ تھا۔ آبپاش باغات پر ٹیکس 600 روپے سے بڑھا کر 1,000 روپے فی ایکڑ اور غیر آبپاش باغات پر 300 روپے سے بڑھا کر 500 روپے فی ایکڑ کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ اس ضرورت سے بہت دور ہے کہ زرعی ٹیکس کو فارم کی اصل آمدنی کے برابر لایا جائے تاکہ اس پر وہی ٹیکس کی شرح لاگو ہو جو تنخواہ دار طبقے پر لاگو ہوتی ہے۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پنجاب ملک کا بریڈ باسکٹ ہے جہاں ایسے غیر حاضر زمینداروں کی بڑی تعداد موجود ہے جن کی صوبائی اسمبلی میں بھاری اکثریت میں نمائندگی ہے، اس ذریعے سے متوقع معمولی آمدنی کا ہدف اگلے مالی سال کے اختتام تک شاید پورا نہ ہو سکے ۔ یہ ایک ایسا تخمینہ ہے جو گزشتہ مالی سال کی وصولی پر مبنی ہے جو بجٹ میں مقرر کردہ ہدف کا محض 38 فیصد رہی تھی۔
زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کو زرعی شعبے کے لیے 10.6 ارب روپے کی سبسڈی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور فسکل رسک اسٹیٹمنٹ 2026-27 میں درج ذیل شامل ہے: کسانوں کی مدد کے لیے 7.3 ارب روپے کی ڈیزل سبسڈی، موٹر سائیکل سواروں کے لیے 1.7 ارب روپے کی پٹرول سبسڈی اور پورے پنجاب میں 0.75 ارب روپے کی مفت پبلک ٹرانسپورٹ سروسز۔
گزشتہ سال کے بجٹ تخمینوں سے زیادہ یہ اہداف مئی 2026 میں آئی ایم ایف کے ساتھ جاری توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تیسرے جائزے پر طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے میں کیے گئے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتے جس میں کہا گیا تھا کہ صوبائی سطح پر محصولات کو بڑھانے کا عمل خدمات پر جی ایس ٹی کے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور زرعی آمدنی پر زیادہ انکم ٹیکس کی شرح کے اطلاق پر مرکوز رہے گا۔
بجٹ میں نان ٹیکس ریونیو میں 19 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس کی بڑی وجہ کیش مینجمنٹ فنڈ ہے جسے پنجاب پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت پنجاب کی لیکویڈیٹی اور بجٹ پر عمل درآمد کو سنبھالنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہ 800 ارب روپے سے بڑھ کر 1.2 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس فنڈ کو پیداواری سرمایہ کاری، ناکارہ کیش بیلنس، صوبائی اضافی محصولات اور صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے غیر استعمال شدہ رقوم کے ذریعے فنڈ اور ریپلینش کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، بجٹ میں پولیس کی جانب سے ٹریفک چالان میں اضافے (2.8 ارب روپے)، رائلٹیز سے بڑھتی ہوئی آمدنی، مرکز کی جانب سے این ایچ پی کے بقایا جات کی ادائیگی اور 2024 میں قائم کردہ پنجاب پنشن فنڈ سے متوقع منافع کے ذریعے زیادہ آمدنی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ پنشن فنڈ 2024 سے بھرتی ہونے والے ملازمین کی شراکت سے بنتا ہے، اگرچہ اس سے ہونے والی آمدنی کی درست مقدار کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔
بجٹ میں 910 ارب روپے کے سرپلس (اضافی بچت) کو ظاہر کیا گیا ہے جو صوبائی ٹیکسوں کی مجموعی وصولی یعنی 749 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ یہ سرپلس وفاقی بجٹ کے ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھا جو آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔
اخراجات کا تخمینہ بنیادی طور پر جاری اخراجات پر ہے جو 3.29 ٹریلین روپے ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات کا بجٹ 752 ارب روپے یا کل بجٹ کا 12.7 فیصد رکھا گیا ہے جو کہ وفاق کی جانب سے جاری اخراجات پر 93 فیصد کے مختص کردہ تناسب سے کم ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں اضافہ جس کی تائید کی گئی ہے وفاقی بجٹ میں نظرثانی شدہ صوبائی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں پنجاب کا حصہ صرف 38 فیصد ظاہر کرتا ہے جو کہ ڈیویزیبل پول میں پنجاب کے 51.74 فیصد حصے سے کم ہے۔ بلاشبہ یہ کم حصہ پنجاب کے بجٹ کے اس بنیادی مقصد میں جڑا ہوا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے مطابق وفاقی بجٹ کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔
آخر میں یہ حتمی تخمینہ نہیں ہوسکتا اگر بیرونی عوامل سے منسلک غیر متوقع واجبات سامنے آئیں۔ پنجاب کا بجٹ وفاقی بجٹ کی عکاسی کرتا ہے، اخراجات میں توازن بھی ضروری ہوگا جس کے تحت مالی سال 27 میں بنیادی اخراجات جی ڈی پی کے تناسب سے مستحکم رہیں گے جبکہ ٹارگٹڈ کیش ٹرانسفرز اور صحت و تعلیم کے اخراجات کے تناسب میں اضافہ کیا جائے گا۔ مزید برآں اگر ریونیو وصولی میں خطرات سامنے آئے تو اخراجات میں کمی (بشمول کم ترجیحی کیپیٹل اخراجات) کی ضرورت پڑسکتی ہے۔