مارکٹس

امریکا ایران امن معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتیں گرگئیں

  • برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 89 سینٹس (1.12 فیصد) کمی کے بعد 78.66 ڈالر فی بیرل رہی،
شائع June 18, 2026 اپ ڈیٹ June 18, 2026 10:09am

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز ابتدائی تجارت کے دوران کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کی جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی تیل پر امریکی پابندیوں میں نرمی کی توقع ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی میں بڑی رکاوٹ ختم ہونے کا امکان ہے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 89 سینٹس (1.12 فیصد) کمی کے بعد 78.66 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 98 سینٹس (1.28 فیصد) کمی کے بعد 75.81 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق بدھ کے روز ہونے والی تیزی کے بعد قیمتوں میں یہ کمی اس وقت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو فضائی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کہا کہ توانائی مارکیٹس ایران کے تیل کی جلد واپسی کو تیزی سے قیمتوں میں شامل کر رہی ہیں۔

14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہوگا، جس کے دوران ایران کو آبنائے ہرمز سے بغیر ٹول بحری گزرگاہ کی اجازت دینی ہوگی۔ معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 30 دن کے اندر اس راستے کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔

ابتدائی معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی پیچیدہ مسائل کو مؤخر کرتا ہے جبکہ امریکا اور اس کے شراکت داروں کو ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی تیاری کا بھی کہا گیا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو 2027 تک عالمی منڈی میں سپلائی کا بحران ختم ہو کر بڑی اضافی رسد (سرپلس) میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو بھی افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے ممکنہ طور پر شرح سود میں اضافے پر غور کر رہا ہے، جس سے معاشی ترقی کی رفتار سست اور تیل کی طلب متاثر ہو سکتی ہے۔