کاروبار اور معیشت

گاڑیوں کی درآمد پر عمر کی شرط ختم، نئے ٹیرف پلان کا اعلان

  • اطلاق مقررہ معیارِ اور ماحولیاتی تقاضوں کی پابندی سے مشروط ہوگا
شائع June 17, 2026 اپ ڈیٹ June 17, 2026 01:13pm

حکومت نے منگل کو ٹیرف ریشنلائزیشن پلان کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا جس کے تحت کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری لیویز میں وسیع پیمانے پر کمی کے باعث اندازاً 143.4 ارب روپے کی آمدنی سے دستبرداری اختیار کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا، صنعتی مسابقت میں اضافہ کرنا اور بتدریج پاکستان کی معیشت کو زیادہ درآمدی مسابقت کے لیے کھولنا ہے۔

یہ اقدامات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے سامنے پیش کیے گئے جس کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد اضافی 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کو کم کرکے 30 فیصد کردیا جائے گا۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے موجودہ پانچ سالہ عمر کی حد کو ختم کر دیا جائے گا، تاہم اس کا اطلاق مقررہ معیارِ اور ماحولیاتی تقاضوں کی پابندی سے مشروط ہوگا۔

سیکرٹری تجارت نے سینیٹ کمیٹی کو نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-2030 پر بریفنگ دیتے ہوئے حکومت کی اس حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا جس کا مقصد صنعتی مسابقت کو بڑھانا، تجارت کو سہولت فراہم کرنا اور طویل مدتی معاشی ترقی کی حمایت کرنا ہے۔

اس پالیسی کا مقصد ٹیرف ڈھانچوں کو بتدریج معقول بنانا، ڈیوٹیز کو ہموار کرنا اور مقامی صنعت کے لیے زیادہ مسابقتی ماحول پیدا کرنا ہے جبکہ ساتھ ہی برآمدات اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ طے شدہ نیشنل ٹیرف پالیسی اصلاحاتی ایجنڈے کا ہدف یہ ہے کہ دوسرے سال یعنی 2026-27 کے دوران پاکستان کے موثر ٹیرف ڈھانچے میں نمایاں کمی لائی جائے۔

آئندہ مالی سال 2026-27 میں اوسط ٹیرف 16.56 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد تک آنے کی توقع ہے، اس پیکیج کے تحت حکومت زیادہ سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی کی شرح 50 فیصد پر برقرار رکھے گی تاہم مختلف ٹیرف لائنز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹیز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی جائے گی۔

ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کے ڈھانچے کو معقول بنایا جائے گا جس کے تحت نرخوں کو 6 سے 4 فیصد، 4 سے 2 فیصد اور 2 سے صفر فیصد تک کم کیا جائے گا جس میں بہت کم استثنیٰ ہوگا۔

20 فیصد سے زائد ریگولیٹری ڈیوٹیز کی حد زیادہ سے زیادہ 20 فیصد تک مقرر کر دی جائے گی جبکہ 20 فیصد اور اس سے کم کی موجودہ ریگولیٹری ڈیوٹیز میں 20 فیصد تک کمی کی جائے گی۔

1، 2، اور 2.5 فیصد کے نچلے درجے کے ریگولیٹری ڈیوٹی سلیبز کو بڑی حد تک ختم کر دیا جائے گا، سوائے ان شعبوں کے جو برآمدات یا مقامی مینوفیکچرنگ سے منسلک ہیں۔

اعلان کردہ اہم ترین پالیسی تبدیلیوں میں سے ایک کا تعلق آٹوموبائل سیکٹر سے ہے جہاں حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کو مزید آزاد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔