اربوں روپے رکھنے والے ہزاروں افراد نے آمدن ظاہر نہیں کی، ایف بی آر
- ڈیٹا تجزیے کے ذریعے تقریباً 8,697 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے اکاؤنٹس میں تقریباً 750 ارب روپے کی رقم موجود ہے
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پیر کے روز انکشاف کیا ہے کہ 8,697 افراد جن کے بینک ڈپازٹس 750 ارب روپے تک ہیں، انہوں نے اپنی آمدن صفر ظاہر کی، جبکہ تقریباً 80 فیصد بڑے پراپرٹی خریداروں نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں اپنے مالی لین دین کو نمایاں طور پر کم ظاہر کیا۔
ایف بی آر نے یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں کیا، جو چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت فنانس بل 2026 کا تفصیلی جائزہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیٹا تجزیے کے ذریعے تقریباً 8,697 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے اکاؤنٹس میں تقریباً 750 ارب روپے کی رقم موجود ہے، لیکن انہوں نے انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔ اس سے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور تعمیل بہتر بنانے کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ ایف بی آر حکام نے مزید بتایا کہ زیادہ تر یعنی 98.9 فیصد بڑے ڈپازٹ رکھنے والے افراد نے اپنی بینک ٹرانزیکشنز کو کم ظاہر کیا۔
اجلاس میں ڈیٹا انٹیگریشن، معیشت کی دستاویز بندی اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار کو بڑھانے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ ایف بی آر نے اراکین کو بتایا کہ مالیاتی ڈیٹا کے مؤثر استعمال اور ٹیکس کمپلائنس بہتر بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔ اراکین کو ٹرانزیکشن مانیٹرنگ اور معیشت کے مختلف شعبوں میں دستاویز بندی مضبوط بنانے سے متعلق تجاویز پر بھی بریفنگ دی گئی۔
کمیٹی اراکین نے ایف بی آر کی کارکردگی اور بار بار پالیسی تبدیلیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایف بی آر نے گزشتہ ایک دہائی میں متعدد تجربات کیے، مگر دیرپا نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ گزشتہ دس سال میں کیے گئے اقدامات اور بعد میں واپس لیے گئے فیصلوں کا آڈٹ کیا جائے۔ ایف بی آر نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایلیٹ کیپچر (اشرافیہ کے اثر و رسوخ) بھی بے نقاب ہو سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026