خواتین کی ہائجین مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ
- حکومت نے انہیں ملک بھر میں خواتین کی بنیادی صحت اور صفائی (ہائجین) کی ضروری مصنوعات قرار دیا ہے۔
حکومت نے حالیہ منظور شدہ بجٹ 2026-27 میں سینیٹری پیڈز پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔
حکومت نے انہیں ملک بھر میں خواتین کی بنیادی صحت اور صفائی (ہائجین) کی ضروری مصنوعات قرار دیا ہے۔
اسی طرح آبادی میں اضافے پر قابو پانے کی حکمت عملی کے تحت حکومت نے مانع حمل ادویات (کنٹراسیپٹو مصنوعات) پر بھی ٹیکس ختم کر دیا ہے۔
بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انسانی حقوق کی وکیل ماہ نور عمر نے کہا کہ انہوں نے اور ان کی قانونی ٹیم نے اس ٹیکس کے مکمل خاتمے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ٹائم میگزین کی جانب سے 2026 کی “’ویمن آف دی ایئر” میں شامل کی جانے والی ماہ نور نے کہا کہ یہ فیصلہ پیریڈ غربت کے خاتمے کی سمت ایک اہم قدم ہے اور اس سے مصنوعات مزید قابلِ رسائی ہوں گی۔
پاکستان کے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت مقامی طور پر تیار شدہ سینیٹری پیڈز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد تھا، جبکہ درآمدی پیڈز اور ان کی تیاری کے خام مال پر 25 فیصد کسٹمز ڈیوٹی لاگو تھی۔
جب مقامی سطح کے دیگر ٹیکس بھی شامل کیے جاتے تھے تو یونیسیف پاکستان کے مطابق ماہواری کی مصنوعات پر مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 40 فیصد تک پہنچ جاتا تھا۔
ماہ نور عمر نے مزید کہا کہ اگرچہ کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے، تاہم میڈیا دباؤ اور آن لائن مہم نے اس معاملے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ موضوع پاکستان سمیت عالمی میڈیا پر وائرل ہوا، جس نے اسے نمایاں سطح پر لانے میں مدد دی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی، اور مستقبل میں وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی اس طرح کی پالیسی اپنائی جائے جیسے اسکاٹ لینڈ میں تمام پیریڈ پروڈکٹس مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی خواتین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی صفائی کی مصنوعات کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہیں، اور ان پر ٹیکس ختم ہونے سے نہ صرف معاشی بوجھ کم ہوگا بلکہ لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کی صحت اور فلاح بہتر ہوگی۔
اقوام متحدہ کی تنظیم یو این ویمن نے بھی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہواری کی صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اسے سہولت، عزت اور مساوات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ لگژری کے طور پر۔