کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • مانیٹری پالیسی کمیٹی رواں سال چوتھی بار اجلاس منعقد ہوا
شائع June 15, 2026 اپ ڈیٹ June 15, 2026 03:51pm

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا جس کے تحت شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پیر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رواں سال چوتھی بار اجلاس منعقد ہوا۔

اس سے قبل 27 اپریل 2026 کو ہونے والےاجلاس میں مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا جس کے بعد شرحِ سود 11.5 فیصد تک پہنچ گئی جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا۔

قبل ازیں ماہرین نے مرکزی بینک کے فیصلے کے حوالے سے ملے جلے خدشات اور توقعات کا اظہار کیا تھا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے توقع ظاہر کی کہ شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق 15 جون 2026 کے ایم پی سی اجلاس میں 49 فیصد افراد توقع رکھتے ہیں کہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔اسی دوران باقی 49 فیصد شرکاء شرحِ سود میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں جن میں 34 فیصد کا خیال ہے کہ 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوگا جبکہ 15 فیصد کے مطابق 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے، صرف 2 فیصد افراد نے شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس تک کمی کی پیشگوئی کی ۔

بروکریج ہاؤس نے کہا کہ شرحِ سود میں تبدیلی سے متعلق غیر یقینی اور ملے جلے خیالات کی بنیادی وجہ تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ ہے۔ ان کے مطابق شرحِ سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا ان کا مؤقف اس بنیاد پر ہے کہ جنگ میں شامل فریقین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور پاکستان کی فعال ثالثی کی کوششیں صورتحال کو قابو میں رکھنے میں مددگار ہیں۔

دریں اثنا پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نے کہا کہ مارکیٹ کی توقعات مجموعی طور پر محتاط طور پر شرحِ سود کو برقرار رکھنے کے مؤقف کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

حالیہ تبصروں کے مطابق اگرچہ شرحِ سود میں تبدیلی کے حوالے سے آرا منقسم ہیں اور کچھ لوگ موجودہ سطح برقرار رکھنے جبکہ کچھ معمولی اضافے کے حق میں ہیں، تاہم تیل کی قیمتوں میں کمی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ میں نرمی نے مزید اضافے کے امکان کو کم کردیا ہے۔ دوسری جانب بلند افراطِ زر اور توقعات سے جڑے خدشات کی وجہ سے شرحِ سود میں کمی کو قبل از وقت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران نے اپنی جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کر لیا ہے، اس سلسلے میں باقاعدہ دستخطی تقریب جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد کی جائے گی۔

معاہدے کی درست تفصیلات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس معاہدے میں تمام محاذوں پر بشمول لبنان میں فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کی شق شامل ہے۔