مارکٹس

امریکا ایران امن معاہدہ، ڈالر 10 روز کی کم ترین سطح پر آ گیا

  • کرنسی مارکیٹ میں یورو 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1607 ڈالر پر پہنچ گیا
شائع June 15, 2026 اپ ڈیٹ June 15, 2026 10:20am

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے کی خبر کے بعد امریکی ڈالر پیر کے روز اپنی بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں 10 روز کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ معاہدے کی پیش رفت سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کا رجحان نسبتاً زیادہ خطرے والے اثاثوں کی جانب بڑھ گیا۔

امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے، ایران پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس خبر کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 4 فیصد سے زائد گر کر 83.82 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔

تاہم مارکیٹ میں کچھ احتیاط بھی برقرار رہی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران حتمی جوہری معاہدے تک نہ پہنچا تو امریکا تہران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر سکتا ہے یا پھر مشرق وسطیٰ کا نگران بننے کے بدلے خطے کی آمدنی میں 20 فیصد حصہ طلب کر سکتا ہے۔

کرنسی مارکیٹ میں یورو 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1607 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.3 فیصد مضبوط ہو کر 1.3448 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ آسٹریلوی ڈالر میں 0.5 فیصد اور نیوزی لینڈ ڈالر میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی کارکردگی کو دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 0.31 فیصد کمی کے بعد 99.492 پر آ گیا، جو 5 جون کے بعد کم ترین سطح ہے۔

دوسری جانب جاپان کا مرکزی بینک 16 جون کو ختم ہونے والے اجلاس میں شرح سود کو 31 سال کی بلند ترین سطح تک بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ فیصلہ ہوتا ہے تو یہ عالمی مرکزی بینکوں کے سخت مالیاتی پالیسی اپنانے کے رجحان کے مطابق ہوگا، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔