کاروبار اور معیشت

500 ملین روپے تک کی آمدنی پر سپر ٹیکس ختم

  • 500 ملین روپے سے زائد آمدنی والے افراد کے لیے اس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی
شائع June 13, 2026 اپ ڈیٹ June 13, 2026 02:42pm

فنانس بل 2026 کے تحت 500 ملین روپے تک کی آمدنی والے افراد پر سے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ 500 ملین روپے سے زائد آمدنی والے افراد کیلئے اس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے، تاہم یہ رعایتیں بینکنگ، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (تیل و گیس کی تلاش و پیداوار) اور کھاد کے شعبوں پر لاگو نہیں ہوں گی۔

فنانس بل 2026 کے تحت پاکستان میں کیپٹل ایسیٹس سے حاصل ہونے والی فرضی آمدنی پر ٹیکس سے متعلق سیکشن 7 ای کو ختم کردیا گیا ہے۔

فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے زیادہ آمدنی والے افراد پر عائد کیے گئے سپر ٹیکس کے حوالے سے ایک بڑی رعایت (ریلیف) تجویز کی گئی ہے۔ یہ ٹیکس ماضی کے اثر کے ساتھ لاگو کیا گیا تھا اور بعد ازاں اس کے دائرہ کار اور الفاظ میں مختلف تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اب اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے نئی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

اب فنانس بل 2026 کے ذریعے یہ تجویز دی گئی ہے کہ جن افراد کی آمدنی 500 ملین (50 کروڑ) روپے سے زیادہ نہیں ہے ان پر سے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ مزید برآں، یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ مستقبل میں سپر ٹیکس صرف ان زیادہ آمدنی والے افراد پر لاگو ہوگا جن کی آمدنی 500 ملین روپے سے زائد ہے، اور اس کے لیے ٹیکس کی شرح کو سابقہ 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا دی گئی یہ ریلیف ٹیکس ایئر 2026 سے لاگو ہوگی جس کے لیے کل آمدن کے گوشوارے ستمبر تا دسمبر 2026 میں جمع کرائے جائیں گے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا تو اسے ٹیکس ایئر 2022 سے ماضی سے لاگو کیا گیا تھا، نہ صرف یہ کہ اسے ریٹروسپیکٹو اثر کے ساتھ نافذ کیا گیا بلکہ حال ہی میں فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ نے اس کی آئینی حیثیت کو بھی برقرار رکھا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026