پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس: وزیر خزانہ کا حکومتی اقدامات کا دفاع، آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہونے کا دعویٰ
- یہ بجٹ معاشی ترقی کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گا، محمد اورنگزیب
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو قومی اسمبلی میں ایک روز قبل پیش کیے گئے بجٹ کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کا دفاع کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے دستیاب مالی گنجائش کو ترقی کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے اور یہ بجٹ معاشی ترقی کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ میں ہم نے برآمدات پر مبنی ترقی کے حصول کے لیے تمام سازگار عوامل کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے، اس ضمن میں انہوں نے ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس کے خاتمے کا حوالہ دیا۔
حکومت نے چھ آمدنی سلیبز میں سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کی تجویز دی۔ سالانہ 500 ملین روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی۔
مشرق وسطیٰ بحران کے اثرات پھیلنے کا خدشہ
وزیر خزانہ نے علاقائی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور اس کے ملکی معیشت پر اثرات کے حوالے سے کہا کہ حکومت اب تک صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھالنے میں کامیاب رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ تنازع جلد از جلد ختم ہو جائے گا۔ تاہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے اس کے اثرات آئندہ مالی سال تک جاری رہیں گے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری
محمد اورنگزیب نے کہا کہ چونکہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، اس لیے حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ٹیکس اہداف کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی توجہ نفاذ، تعمیل اور ریونیو لیکیج کو روکنے پر مرکوز ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سولر پینلز پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کبھی بھی ہمارے زیرِ غور نہیں تھا۔
ایک اور سوال پر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کم از کم اجرت کے نفاذ کے لیے نجی شعبے کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ حکومت نے ماہانہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے جس سے یہ 37,000 روپے سے بڑھ کر 40,700 روپے ہو جائے گی۔
بیرونی معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات
بیرونی جھٹکوں (ایکسوجینس شاکس) کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ان سے نمٹنے کا واحد طریقہ مالی ذخائر (بفرز) بنانا ہے، یہ ایک ذمہ دار حکومت کا کردار ہے۔
ٹیرف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پانچ سالہ منصوبے کے دوسرے سال میں ہے جس کا مقصد درمیانی اشیاء (انٹرمیڈیٹ گڈز) اور خام مال کی لاگت کو کم کرنا ہے۔
یہ بھی ہماری برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔
زرعی شعبہ اب بھی معیشت کی بنیاد
انہوں نے کہا کہ میں زرعی شعبے کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا۔ زرعی قرضوں اور مالی معاونت میں سالانہ تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ اب 2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہم نے رواں مالی سال زرخیز اسکیم متعارف کرائی۔ یہ ایک نہایت اہم اقدام ہے۔ زرعی شعبے میں خاص طور پر چھوٹے کسانوں پر آڑھتیوں کے بڑھتے اثرورسوخ کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بینک مناسب مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے آگے نہیں آرہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبہ مستقبل میں ہماری ترقیاتی حکمتِ عملی کے اہم ستونوں میں سے ایک رہے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اشیاء کے تجارتی خسارے کو کم کرنے پر مسلسل توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے لیکن جیسے جیسے ہم آگے بڑھ رہے ہیں، خدمات (سروسز) کا شعبہ، خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر زیادہ اہم ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف آمدنی سلیبز پر انکم ٹیکس میں کمی کے حکومتی فیصلے کو خوب پذیرائی ملی ہے۔
بجٹ تجاویز کے تحت سالانہ 2.2 ملین روپے سے 3.2 ملین روپے تک آمدنی حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق 3.2 ملین سے 4.1 ملین روپے سالانہ آمدنی والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح 5.6 ملین سے 7 ملین روپے سالانہ کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح کو 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس نظام کو خودکار بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں اے آئی کا استعمال کیا جائے گا تاکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جاسکے۔
اس دوران وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی جو وزیر خزانہ کے ساتھ موجود تھے نے اس بجٹ کو عوام دوست بجٹ قرار دیا۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقے، صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور تعمیراتی شعبے کے لیے کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ معیشت کے تمام اہم ستونوں کو ریلیف فراہم کرے گا۔
اسی طرح وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھی اس بجٹ کو ریلیف پر مبنی بجٹ قرار دیا ہے۔
ریٹیلرز اسکیم پر وضاحت
بلال اظہر کیانی نے وضاحت کی کہ 25 ہزار روپے کا ہندسہ کوئی فکسڈ ٹیکس نہیں ہے جب کہ ریٹیلرز کے لیے جن کی سالانہ فروخت 200 ملین روپے سے کم ہے، اصل ٹیکس ان کے ٹرن اوور کا 1 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ 25,000 روپے صرف کم از کم نقد ادائیگی ہے۔ ریٹیلرز اپنی قابلِ ادائیگی ٹیکس ذمہ داری کے مقابلے میں ودہولڈنگ ٹیکس کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں، لیکن فائلنگ کے وقت انہیں کم از کم 25,000 روپے نقد ادا کرنا لازمی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے اصل ٹیکس ٹرن اوور کا 1 فیصد ہی رہتا ہے جبکہ 25,000 روپے محض وہ کم از کم رقم ہے جو ادا کرنی لازمی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کے روز مالی سال 27-2026 کے لیے 18.77 ٹریلین روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا جس میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبوں کو ٹیکس مراعات دی گئی ہیں۔ اس بجٹ کا مقصد صنعتوں کو بحال کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معیشت کو 4 فیصد ترقی کے ہدف کی جانب گامزن کرنا ہے۔
محصولات میں تقریباً 1 ٹریلین روپے کی متوقع کمی کے باوجود حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 15.264 ٹریلین روپے کا انتہائی پرعزم ریونیو ہدف مقرر کیا ہے۔
موجودہ مالی سال کے 12.983 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ ریونیو تخمینے کے مقابلے میں 15.264 ٹریلین روپے کا نیا ہدف محصولات کی وصولی میں 17.6 فیصد کی نمایاں نمو کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ 18.8 ٹریلین روپے کے کل بجٹ حجم میں سے 8,045 ارب روپے (یعنی 8.045 ٹریلین روپے) صرف قرضوں پر سود (مارک اپ) کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 27-2026 میں معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ اوسط افراطِ زر (مہنگائی) 8.2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے مالیاتی خسارہ 3.6 فیصد (یعنی 5.226 ٹریلین روپے) ہوگا جب کہ پرائمری سرپلس 2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد آئی ایم ایف کی طرف سے طے کردہ مالیاتی نظم و ضبط کے تحت خسارے کو مقررہ حد میں رکھنا ہے۔