مارکٹس

امریکہ ایران امن معاہدے کی خبریں، خام تیل دو ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا

  • برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.34 ڈالر یا 3.7 فیصد کمی کے بعد 87.04 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
شائع June 12, 2026 اپ ڈیٹ June 12, 2026 11:42pm

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعہ کو 3 فیصد سے زائد گر گئیں اور تقریباً دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں، کیونکہ امریکی اور ایرانی حکام نے اشارہ دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.34 ڈالر یا 3.7 فیصد کمی کے بعد 87.04 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3.11 ڈالر یا 3.55 فیصد گر کر 84.60 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں معاہدے 17 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔

پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلائن کے مطابق مارکیٹ کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اب پہلے سے زیادہ قریب ہے۔ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک مغربی ذریعے نے بتایا کہ خلیج میں جنگ بندی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم) پر اتوار تک دستخط ہو سکتے ہیں اور جنیوا اس کے لیے سب سے ممکنہ مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔

تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے مذاکرات سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک ذریعے کے حوالے سے اس قیاس آرائی کی تردید کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے خلاف مجوزہ فضائی حملے منسوخ کر دیے، جبکہ ایرانی خبر ایجنسی مہر کے مطابق حتمی مذاکرات میں جوہری اور اقتصادی معاملات پر توجہ دی جائے گی، تاہم ایران کے میزائل پروگرام کو زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔

ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ممکنہ معاہدے سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن عالمی تیل ذخائر اب بھی کم سطح پر ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جولائی کے آخر تک تیل کی ترسیل معمول پر نہ آئی تو قیمتیں دوبارہ بڑھ کر 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

دریں اثنا، اوپیک نے 2026 کے لیے عالمی تیل طلب میں اضافے کی پیش گوئی کم کر دی ہے، تاہم تنظیم کو توقع ہے کہ 2027 میں طلب دوبارہ مضبوط انداز میں بحال ہوگی۔