بجٹ 2026-27 پر کاروباری رہنماؤں کا ملا جلا ردعمل
- پاکستان کی معیشت میں استحکام کے حوصلہ افزا آثار سامنے آئے ہیں،عاطف اکرام شیخ
کاروباری ایوانوں اور صنعتکاروں نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر ملے جلے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے نہ مکمل طور پر اچھا اور نہ ہی مکمل طور پر برا بجٹ قرار دیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے 18.7 کھرب روپے کے وفاقی بجٹ 2026-27 کا خیرمقدم کرتے ہوئے معیشت کے استحکام کے لیے حکومتی کوششوں کو سراہا، تاہم انہوں نے پائیدار معاشی اور صنعتی ترقی کی جانب زیادہ مضبوط پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔
جمعہ کو بجٹ کے بعد کاروباری برادری اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور حکومت کی معاشی ٹیم کو تیسرے وفاقی بجٹ پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ معاشی پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کے حوصلہ افزا آثار سامنے آئے ہیں۔ جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک کم ہو گیا ہے اور سرکاری قرضوں کی سروسنگ لاگت میں 23 فیصد کمی آئی ہے، لہٰذا معیشت بلا شبہ مالیاتی نظم و ضبط کی جانب بڑھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ محض آمدن اور اخراجات کا بیان نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک اہم پالیسی دستاویز ہے جسے محض استحکام سے آگے بڑھ کر مضبوط معاشی ترقی کی سمت متعین کرنی چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ایف پی سی سی آئی کی متعدد اہم سفارشات کو بجٹ میں شامل کیا گیا، جو ترقی پر مبنی ماڈل کی جانب جزوی پیش رفت کا اشارہ ہے۔
ایف پی سی سی آئی نے بجٹ کے درج ذیل اہم اقدامات کا خیرمقدم کیا:
ٹیکس ریلیف: غیر ملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ( سی وی ٹی) کا خاتمہ اور بین الاقوامی بزنس کلاس سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کا خاتمہ۔
سپر ٹیکس اصلاحات: 500 ملین روپے تک آمدن والے چھ سپر ٹیکس سلیبز کا خاتمہ، 500 ملین روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنا، اور برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس کا مکمل خاتمہ۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے سہولت: تنخواہ دار افراد پر عائد سرچارج کا خاتمہ اور تمام ٹیکس سلیبز میں نمایاں کمی۔
شعبہ جاتی مراعات: آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس استثنا میں جون 2029 تک توسیع، اور تعمیراتی شعبے میں فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس میں 50 فیصد کمی (خریداری پر 2.5 فیصد سے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے 2.75 فیصد)۔
ریٹیل ڈیجیٹلائزیشن: 200 ملین روپے سے کم سالانہ فروخت رکھنے والے ریٹیلرز کے لیے 1 فیصد فکسڈ سیلز ٹیکس اسکیم، جس کے تحت انہیں پی او ایس مشینوں اور معمول کے آڈٹس سے استثنا حاصل ہوگا اور گرین کیو آر کوڈ نظام متعارف کرایا جائے گا۔
برآمد کنندگان کے لیے ریلیف:برآمد کنندگان کے لیے 1.25 فیصد کم از کم ٹیکس مقرر کیا گیا ہے، جو پہلے موجود 1 فیصد کم از کم ٹیکس اور 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کے نظام کی جگہ لے گا۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مثبت اشاریوں کے باوجود ایف پی سی سی آئی نے مجموعی معاشی ماحول کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری بمقابلہ جی ڈی پی کا تناسب 14.38 فیصد پر جمود کا شکار ہے جبکہ بچت کی شرح کم ہو کر 14.13 فیصد رہ گئی ہے۔ سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ شہری غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد ہو گئی ہے، جو بنیادی کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں سست روی کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 15.2 کھرب روپے کے ٹیکس وصولی ہدف (17 فیصد اضافہ) اور 1.7 کھرب روپے کے پٹرولیم لیوی ہدف (18 فیصد اضافہ) پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
فیڈریشن نے خبردار کیا کہ یہ اہداف، خصوصاً عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں کے تناظر میں، مہنگائی کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔
دریں اثنا، بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو نہ اچھا اور نہ ہی برا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض مثبت اقدامات کے باوجود مجموعی بجٹ میں برآمدات کے فروغ، صنعتی بحالی اور معاشی توسیع کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔
وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زبیر موتی والا نے کہا کہ اکنامک سروے میں پیش کیے گئے معاشی اشاریوں نے یہ توقع پیدا کی تھی کہ حکومت دستیاب مالیاتی گنجائش کو استعمال کرتے ہوئے برآمدات اور صنعت کو بامعنی سہارا فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تاہم بجٹ میں کوئی ایسی بڑی ترغیب نہیں دی گئی جو برآمدات میں تیزی لانے اور پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو۔
فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے متعلق حکومتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری نے بھرپور مطالبہ کیا تھا کہ برآمد کنندگان کے لیے سادہ اور مقررہ فکسڈ ٹیکس نظام بحال کیا جائے تاکہ انہیں ٹیکس حکام سے غیر ضروری رابطوں اور پیچیدہ دستاویزی تقاضوں سے نجات مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے حکومت نے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد تو کر دی اور اسے کم از کم ٹیکس میں تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو بدستور عام ٹیکس نظام کے تحت رہنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فائنل ٹیکس رجیم کے بنیادی مقصد کو ہی ناکام بنا دیتا ہے۔ برآمد کنندگان مزید پیچیدگیوں اور ٹیکس حکام کے ساتھ بار بار معاملات نہیں چاہتے۔ ہم یقین دہانی اور کاروبار میں آسانی چاہتے تھے، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔
تاہم زبیر موتی والا نے سپر ٹیکس کی شرحوں میں کمی اور 500 ملین روپے تک منافع کمانے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کا خیرمقدم کیا اور اسے کاروباری برادری کے دیرینہ مطالبے کی جزوی منظوری اور ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس میں کمی یقیناً درست سمت میں ایک قدم ہے، لیکن سپر ٹیکس بذاتِ خود ایک غیر معمولی محصول ہے اور بالآخر اسے مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے۔ پاکستان میں پہلے ہی خطے کے مقابلے میں کارپوریٹ ٹیکس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے اور سپر ٹیکس کا تسلسل صنعتی توسیع اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
زبیر موتی والا نے افسوس کا اظہار کیا کہ بجٹ صنعتوں کو درپیش ایک انتہائی اہم مسئلے یعنی بجلی اور گیس کی بلند لاگت کے حوالے سے خاموش رہا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے نرخوں میں کمی یا گردشی قرضے کے بوجھ کو پیداواری شعبوں پر منتقل کرنے کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی واضح روڈ میپ پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان بھر میں صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت سے کم سطح پر کام کر رہی ہیں اور زور دیا کہ ملک کا معاشی مستقبل مکمل طور پر برآمدات پر مبنی ترقی سے وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ڈالرز کی ضرورت ہے اور ڈالرز صرف برآمدات کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔ برآمدات اسی وقت بڑھیں گی جب صنعتیں مسابقتی بنیادوں پر کام کریں گی۔ صنعتی ترقی کے بغیر نہ محصولات میں پائیدار اضافہ ممکن ہے، نہ نئی سرمایہ کاری آئے گی اور نہ ہی کوئی حقیقی معاشی پیش رفت ہو سکے گی۔
چیئرمین بی ایم جی نے سوال اٹھایا کہ حکومت کاروبار اور صنعتوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیے بغیر 15 کھرب روپے کے محصولات کا ہدف اور اضافی 1.5 کھرب روپے کی وصولی کیسے حاصل کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے رجحان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دستاویزی شعبوں کو مسلسل زیادہ نگرانی اور دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ معیشت کے وسیع حصے اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔
ان تحفظات کے باوجود زبیر موتی والا نے بجٹ میں اعلان کردہ بعض اقدامات کو سراہا، جیسے خصوصاً تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں کو فراہم کردہ ریلیف، الیکٹرک گاڑیوں کی کٹس پر مراعات کا تسلسل، اور ٹیکس انتظامیہ میں آٹومیشن اور ڈیجیٹلائزیشن پر حکومت کی توجہ وغیرہ۔
دریں اثنا سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری(ایس اے آئی) نے وفاقی بجٹ 2026-27 کا جائزہ لیتے ہوئے بعض اقدامات کو محتاط انداز میں سراہا، تاہم اس بات پر گہری مایوسی کا اظہار کیا کہ بجٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر کی فوری ضروریات کو پورا کرنے میں بہت کمزور ثابت ہوا ہے۔
ایس اے آئی کے صدرعبدالرحمن فدا نے کہا کہ ہمارے اراکین حکومت کے ارادوں کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن رفتار کو مسترد کرتے ہیں۔ پانچ سال پر محیط ٹیرف اصلاحات، سپر ٹیکس میں معمولی کمی جس کے خاتمے کے لیے کوئی قانونی مدت مقرر نہیں کی گئی، اور صنعتی توانائی کی قیمتوں پر مکمل خاموشی، ان فیکٹریوں کو بحال نہیں کر سکتی جو آج نصف صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ صنعت کو ایک انقلابی بجٹ درکار تھا، لیکن اسے صرف تدریجی نوعیت کا بجٹ ملا ہے۔
ایسوسی ایشن کے برآمدات پر مبنی اراکین جن میں ٹیکسٹائل، لائٹ انجینئرنگ، کیمیکلز اور پراسیسڈ مصنوعات کے شعبے شامل ہیں خاص طور پر مایوس ہیں۔
برآمدات پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنا ایک محدود ریلیف ہے، جبکہ صنعتی تنظیموں کے اندازے کے مطابق اس شعبے پر مؤثر ٹیکس بوجھ 68 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) کی بحالی کا دیرینہ مطالبہ بھی بجٹ میں پورا نہیں کیا گیا۔