بنگلہ دیش نے 77 ارب ڈالر کا بجٹ پیش کر دیا، اقتصادی نمو کا ہدف 6.5 فیصد مقرر
- چوہدری کا کہنا ہے کہ 'حکومت کا مقصد مہنگائی کو 7.5 فیصد تک کم کرنا اور جی ڈی پی کی شرح نمو کو آئندہ مالی سال میں 6.5 فیصد کرنا ہے'
بنگلہ دیش نے جمعرات کو 9.38 ٹریلین ٹکا (77 ارب ڈالر) کا قومی بجٹ پیش کیا، جس میں 6.5 فیصد اقتصادی نمو اور 7.5 فیصد مہنگائی کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ حکومت مہنگی قیمتوں، کمزور سرمایہ کاری اور مالیاتی شعبے کی کمزوری سے متاثر معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بجٹ جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے ہے اور 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ایک سیاسی اور معاشی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان کی نئی حکومت اصلاحات پر زور دے رہی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بشمول بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف)، سے نئے قرضے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بجٹ سابق عبوری حکومت کے مقابلے میں زیادہ توسیعی ہے، جس میں مجموعی اخراجات میں 19 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور ترقیاتی اخراجات 47 فیصد بڑھا کر 3.16 ٹریلین ٹکا کر دیے گئے ہیں، جبکہ ریونیو کا ہدف 6.95 ٹریلین ٹکا رکھا گیا ہے۔
پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ امیر خسرو محمود چوہدری نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میکرو اکنامک استحکام بحال کرنا، قوتِ خرید کو مضبوط بنانا اور معیارِ زندگی بہتر بنانا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”حکومت کا مقصد آنے والے مالی سال میں مہنگائی کو 7.5 فیصد تک کم کرنا اور جی ڈی پی کی شرحِ نمو کو 6.5 فیصد تک بڑھانا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اہداف استحکام کو یقینی بنانے، قوتِ خرید بڑھانے اور معیارِ زندگی بہتر کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں مالی خسارہ 2.43 ٹریلین ٹکا (تقریباً جی ڈی پی کا 3.6 فیصد) رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ حکومت اس خلا کو پورا کرنے کے لیے مقامی اور غیر ملکی قرضوں کا امتزاج استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
غیر ملکی قرضوں کا کردار زیادہ متوقع ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت مقامی بینکاری نظام پر دباؤ کم کرنے اور ترقیاتی اخراجات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
چوہدری نے کہا کہ ساختی کمزوریاں، حکومتی ناکامیاں اور بیرونی جھٹکوں نے معیشت کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں شرحِ نمو مالی سال 2022–23 میں 5.78 فیصد سے کم ہو کر 2023–24 میں 4.22 فیصد رہ گئی، جبکہ موجودہ مالی سال میں اس کے مزید کم ہو کر 3.49 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ کا عنوان ”جمہوری، انسانی اور جامع معیشت کی طرف سفر“ رکھا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ بجٹ معاشی کمزوری اور عالمی غیر یقینی صورتحال سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں استحکام، سرمایہ کاری، پیداوار، روزگار اور انصاف کو بنیادی ترجیحات قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کا خیال ہے کہ ٹیکس نظام، بینکاری اور سرکاری مالیات میں اصلاحات، اور سرمایہ کاری و برآمدات میں اضافہ معاشی سست روی کو بدلنے میں مدد دے گا، جبکہ ملبوسات (گارمنٹس) کا شعبہ، جو برآمدی آمدنی کے چار پانچ حصوں سے زیادہ کا ذمہ دار ہے، اس حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہے۔