تمباکو صنعت کے تحفظات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، وفاقی وزیرِ تجارت
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے تمباکو صنعت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ٹیکسیشن، غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائی اور سرمایہ کاری و برآمدات کے فروغ کے ساتھ دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانے سے متعلق ان کی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان ٹوبیکو کمپنی (پی ٹی سی) کے وفد نے ملاقات کی جس میں تمباکو صنعت کو درپیش مسائل، بجٹ تجاویز اور غیر قانونی تجارت کے تدارک سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پی ٹی سی کے وفد نے غیر قانونی سگریٹ تجارت کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے مثبت نتائج سے آگاہ کیا اور اسمگل شدہ و نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔
وفد نے تمباکو صنعت کی جانب سے درآمدات کے لیے فائنل ٹیکس رجیم بحال کرنے کی درخواست بھی کی جب کہ بڑھتے ہوئے ٹیکس بوجھ، مہنگی فنانسنگ اور کاروباری لاگت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رسمی معیشت سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کی بنیاد ہے جب ہ غیر دستاویزی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانا پائیدار ریونیو میں اضافے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کی بدولت سرمایہ کاری کے وسیع مواقع رکھتا ہے، تاہم دنیا سرمایہ کاری کے حصول کے لیے مسابقت کررہی ہے، اس لیے پاکستان کو کاروبار دوست پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔
ملاقات میں ہنر مند افرادی قوت کی بیرون ملک منتقلی کو کاروباری شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی قرار دیا گیا۔
وفاقی وزیر تجارت نے تمباکو صنعت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور پی ٹی سی کو اپنی سفارشات باضابطہ طور پر جمع کرانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ تمباکو صنعت کے مسائل اور تجاویز متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائے جائیں گے جبکہ وزارت تجارت برآمدات، سرمایہ کاری اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔