مارکٹس

ٹرمپ کے ایران کے خلاف 'آج رات سخت کارروائی' کے اعلان کے بعد تیل مہنگا

  • برینٹ فیوچرز میں 46 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافہ، فی بیرل قیمت 93.56 ڈالر ہو گئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں اس وقت اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ”آج رات ایران کے خلاف بہت سخت کارروائی کرے گا“ اور جلد ہی مشرق وسطیٰ کے (اس) ملک کے تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے اور منڈیوں پر قابو پا لے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں دشمنیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ تہران نے خلیج ہرمز کو اس وقت بند کرنے کا اعلان کیا جب امریکہ نے ایران پر اضافی حملے کیے، اور ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو مزید حملے کیے جائیں گے۔

عالمی معیاری وقت ( جی ایم ٹی) 1237 تک برینٹ فیوچرز میں 46 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافہ ہوا، اور قیمت فی بیرل 93.56 ڈالر ہو گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل میں 65 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور فی بیرل 90.68 ڈالر ہو گیا۔

تاہم تین ایرانی ذرائع اور ایک یورپی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران نے سیاسی تفاهم کے بعد مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات پر پیغامات کا تبادلہ کیا ہے لیکن ابھی بھی بعض امور پر تفصیلی بات چیت باقی ہے، جن میں ایران کے منجمد اربوں ڈالر کے جاری کرنے کا میکانزم شامل ہے۔

چین کی ایندھن کی کمزور طلب بھی ایران کی وجہ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو محدود کرنے میں مدد کر رہی ہے، کیونکہ پٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم ہو رہی ہے اور خام تیل کی درآمدات میں بھی کمی ہے۔

ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے خلیج ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں تیل کے ٹینکرز اور تجارتی جہاز بھی شامل ہیں، اور کہا ہے کہ کوئی بھی جہاز جو گزرنے کی کوشش کرے گا، اس پر فائر کیا جائے گا۔


ایم یو ایف جی کے تجزیہ کار سوجن کم نے کہا کہ تازہ کشیدگی نے پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی مذاکرات میں مزید غیر یقینی پیدا کر دی ہے اور عالمی سطح پر خام تیل، ایندھن اور ایل این جی کی برآمدات میں طویل خلل کے خطرات بڑھا دیے ہیں، جو اس تنازع کے آغاز سے ہی محدود ہو چکی ہیں۔

تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری

بدھ کو امریکی فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا ہے کہ تجارتی جہاز آبنائے ہرمز کے اندر اور باہر معمول کے مطابق آمدورفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی جنگی جہاز کو آبنائے ہرمز میں نشانہ نہیں بنایا گیا، اس سے قبل ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس آبی گزرگاہ کے قریب امریکی بحری جہازوں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایل ایس ای جی اور کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مزید تین ایل این جی ٹینکرز ٹرانسپونڈرز بند کر کے آبنائے ہرمز سے نکل کر ایشیا کی سمت روانہ ہوئے، تاہم ان کی روانگی کا وقت واضح نہیں ہے۔

ادھر بھارت نے جمعرات کو بتایا ہے کہ عمان کے شناس بندرگاہ کے قریب ایک جہاز سے متعلق واقعہ پیش آیا ہے، جو رواں ہفتے کا تیسرا ایسا واقعہ ہے۔ تاہم بھارتی ریفائنرز نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے کم از کم اگست تک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خام تیل کی وافر مقدار حاصل کر لی ہے۔

ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی (ایدنوک /اے ڈی این او سی) اور دیگر کچھ فروخت کنندگان نے بھی خام تیل برآمد کیا اور ایشیائی خریداروں کو پیشکشیں کیں۔

دوسری جانب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر 7.2 ملین بیرل کم ہو کر 426.5 ملین بیرل رہ گئے، جبکہ رائٹرز پول میں ماہرین نے 4 ملین بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔

اس دباؤ کی مزید تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اوپیک کی پیداوار مئی میں دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی، جیسا کہ رائٹرز کے سروے میں بتایا گیا ہے۔ اس کی وجہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات میں کمی اور تہران کی جانب سے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی مؤثر بندش تھی، جس نے دیگر خلیجی ممالک کی ترسیلات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔