مارکٹس

امریکی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالر سے زائد کا اضافہ

  • برینٹ خام تیل کی قیمت 2.30 ڈالر یا 2.47 فیصد اضافے کے بعد 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
شائع June 11, 2026 اپ ڈیٹ June 11, 2026 08:51am

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان اور امریکا کے تازہ فضائی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت 2.30 ڈالر یا 2.47 فیصد اضافے کے بعد 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 2.60 ڈالر یا 2.89 فیصد بڑھ کر 92.63 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ کاروبار کے ابتدائی مرحلے میں امریکی خام تیل کی قیمت میں 3 ڈالر سے زائد اضافہ بھی دیکھا گیا۔

ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی ایسے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا جو اس اہم گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرے گا۔

دوسری جانب امریکی فوج نے کہا ہے کہ تجارتی جہاز بدستور آبنائے ہرمز سے آمدورفت جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک کسی امریکی جنگی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ یہ بیان ایرانی سرکاری میڈیا کی ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

امریکی افواج نے بدھ کے روز ایرانی اہداف پر مزید حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا مرکزی راستہ ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی بے یقینی نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

ادھر امریکی محکمہ توانائی کے ادارے ای آئی اے کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا کے خام تیل کے ذخائر 72 لاکھ بیرل کم ہو کر 426.5 ملین بیرل رہ گئے۔

تجزیہ کاروں نے 40 لاکھ بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی خام تیل کے ذخائر مجموعی طور پر 7 کروڑ 90 لاکھ بیرل کم ہو چکے ہیں، کیونکہ امریکا عالمی منڈی میں رسد کے خلا کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔