کھیل

غیر مجاز جھنڈوں یا نعروں پر ایران کی دھمکی: ورلڈ کپ میچز روک دیں گے

  • ایران کی گروپ جی مہم کا آغاز 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوگا
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 08:54pm

ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر ورلڈ کپ کے دوران اس کے میچوں میں غیر مجاز پرچم لہرائے یا اسٹیڈیم میں قومی ٹیم کے خلاف نعرے لگائے گئے تو وہ اپنے میچز روک سکتا ہے۔ یہ بات ایرانی میڈیا نے وزیر کھیل احمد دونیمالی کے حوالے سے بتائی ہے، جو ٹورنامنٹ میں ٹیم کی شرکت پر ہونے والی تنقید کے بعد سامنے آئی۔

ورلڈ کپ جمعرات سے شروع ہو رہا ہے، جہاں ایران 15 جون کو لاس اینجلس میں گروپ جی کے اپنے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے مدمقابل ہوگا۔ اس کے بعد وہ 21 جون کو اسی مقام پر بیلجیئم سے اور 26 جون کو سیئٹل میں مصر کے خلاف کھیلے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر کھیل احمد دونیمالی نے منگل کو کہا کہ ایران نے فیفا کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر اس کے میچز کے دوران اسٹیڈیم میں غیر سرکاری پرچم لائے گئے یا قومی ٹیم کے خلاف نعرے بازی کی گئی تو ٹیم مینیجر کو میچ روکنے کا اختیار ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصر کے خلاف میچ کے دوران کسی بھی قسم کی خلل انگیزی نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران اور مصر کی فٹبال ایسوسی ایشنز پہلے ہی فیفا سے مطالبہ کر چکی ہیں کہ سیئٹل میں ہونے والے میچ کے دوران کسی بھی ایل جی بی ٹی کیو پلس پرائیڈ سے متعلق سرگرمی کی اجازت نہ دی جائے۔

یہ میچ مقامی منتظمین کی جانب سے سیئٹل کے پرائیڈ ویک اینڈ کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ”پرائیڈ میچ“ ( وہ فٹبال میچ ہوتا ہے جسے کسی خاص تقریب یا تھیم کے ساتھ منسوب کیا جائے) کے طور پر رکھا گیا ہے۔

اپریل میں وینکوور میں فیفا کانگریس کے باہر ہونے والے مظاہرے میں شرکا نے ایران کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیم ایرانی عوام کی نہیں بلکہ پاسدارانِ انقلاب کی نمائندگی کرتی ہے۔

ایرانی ٹیم کو تنظیمی مشکلات کا بھی سامنا رہا ہے، ایران کی فٹبال فیڈریشن کے مطابق ٹورنامنٹ سے چند روز قبل اس کے ٹکٹوں کا کوٹہ واپس لے لیا گیا، جس کے باعث پہلے سے سفری منصوبے بنانے والے شائقین اپنی ٹیم کے میچز دیکھنے سے محروم رہ گئے۔

ٹیم اس وقت میکسیکو کے شہر تیخوانا میں ٹریننگ کر رہی ہے، جبکہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق اسے ہر میچ سے ایک روز قبل امریکہ میں داخلے کی اجازت ہوگی۔ یہ صورتحال ایک ایسے تنازع کے دوران سامنے آئی ہے جس نے ٹورنامنٹ کو جغرافیائی سیاسی رنگ بھی دے دیا ہے۔