✕
کاروبار اور معیشت

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، 100 انڈیکس میں 900 سے زائد پوائنٹس کی بڑی گراوٹ

  • کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 169,427.44 پوائنٹس پر بند
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 900 سے زائد پوائنٹس کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ٹریڈنگ کے پہلے ہی گھنٹے کے دوران 100 انڈیکس 170,729.57 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔

تاہم مارکیٹ میں تیزی کا یہ رجحان عارضی ثابت ہوا، سیلنگ پریشر کے باعث ابتدائی فوائد زائل ہوگئے۔ اس کے بعد بینچ مارک انڈیکس بتدریج مندی کی طرف گامزن ہو گیا اور دوپہر کے وقت 170,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے نیچے گرگیا جبکہ دوپہر کے بعد کے سیشن میں بھی نقصانات کا یہ سلسلہ مزید بڑھ گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 903.12 پوائنٹس یا 0.53 فیصد کی کمی سے 169,427.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ٹاپ لائن سیکورٹیز کا کہنا ہے کہ دن بھر کے دوران انڈیکس میں آنے والے بڑے اتار چڑھاؤ سے مارکیٹ میں محتاط توقعات اور دیرینہ خدشات کے درمیان کھینچا تانی کی عکاسی ہوتی ہے۔ سرمایہ کار ایک طرف ابھرتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور دوسری طرف مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل سے پہلے اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ کا رجحان تاحال غیر مستحکم ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انڈیکس میں حصص کے لحاظ سے مارکیٹ کے بھاری بھرکم اسٹاکس بشمول آئی این آئی ایل، پی او ایل، آئی ایس ایل ،ایم ای بی ایل اور آئی ایل پی نے مشترکہ طور پر بینچ مارک انڈیکس میں 183 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

دوسری جانب اینگرو،ایم سی بی، یو بی ایل، بی اے ایچ ایل اور او جی ڈی سی ایل نے مارکیٹ کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالا اور انڈیکس سے مجموعی طور پر 464 پوائنٹس کم کیے۔

منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست ریکوری دیکھی گئی کیونکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جیو پولیٹیکل کشیدگی میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا جس سے اہم شعبوں میں ہمہ جہت خریداری کا آغاز ہوا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 1,376.85 پوائنٹس یا 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 170,330.56 پوائنٹس پر بند ہوا۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے بدھ کو ایشیائی اسٹاکس میں گراوٹ دیکھی گئی جبکہ خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس نے مارکیٹوں کو بے یقینی کا شکار کر دیا۔ اس صورتحال نے مہینوں سے جاری اس جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو ماند کر دیا ہے جس نے کموڈٹیز کی قیمتوں کو اوپر دھکیلا اور افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات کو ہوا دی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ تہران نے آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، ریاست ہائے متحدہ (امریکہ) نے ایران کے خلاف حملے شروع کر دیے جس نے تمام فریقین کے درمیان نازک جنگ بندی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کو شدید بے یقینی اور تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.6 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.9 فیصد گر گیا جبکہ اتار چڑھاؤ سے بھرپور اس ہفتے کے دوران جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اسٹاکس دباؤ کا شکار رہے ہیں، جنوبی کوریا کا ٹیک انڈسٹری پر مبنی کوسپی انڈیکس 2 فیصد تک گر گیا۔

تازہ ترین امریکی حملوں کے نتیجے میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں لگ بھگ 1 فیصد کا اضافہ ہوا جو گزشتہ سیشن میں چھوئی گئی سات ہفتوں کی کم ترین سطح سے اوپر آ گئیں۔ برینٹ فیوچرز 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 92.29 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 88.97 ڈالر پر پہنچ گیا۔

علاوہ ازیں بدھ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 1 پیسے کے اضافے کے بعد 278.36 پر بند ہوئی۔

آل شیئر انڈیکس میں تجارتی حجم (وولیم) گزشتہ سیشن کے 76 کروڑ 74 لاکھ (767.45 ملین) شیئرز سے بڑھ کر 79 کروڑ 16 لاکھ (791.64 ملین) شیئرز تک پہنچ گیا۔

تاہم شیئرز کی مجموعی مالیت گزشتہ سیشن کے 27 ارب 18 کروڑ (27.18 ارب) روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 25 ارب 48 کروڑ (25.48 ارب) روپے ریکارڈ کی گئی۔

ٹی پی ایل پراپرٹیز6 کروڑ 40 لاکھ (64.04 ملین) شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرِفہرست رہی، جس کے بعد ٹی پی ایل کارپ 4 کروڑ 6 لاکھ (40.65 ملین) شیئرز اور ٹیلی کارڈ لمیٹڈ 4 کروڑ 4 لاکھ (40.41 ملین) شیئرز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔

بدھ کومجموعی طور پر 488 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 191 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 258 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 39 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔