بھارت کی اپوزیشن کا حکومت سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کا مطالبہ، اقتصادی ترقی کو ممکنہ خطرے سے خبردار کردیا
- اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے خام تیل کی کم قیمتوں سے کئی سال فائدہ اٹھایا، لیکن صارفین کو ریلیف دینے کے بجائے ٹیکس بڑھانے کا انتخاب کیا
بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے منگل کے روز حکومت پر زور دیا کہ وہ خام تیل کی قیمتوں کے اثرات خود جھیلے اور انہیں صارفین پر منتقل نہ کرے، کیونکہ ایندھن اور ضروری اشیاء کی بڑھتی قیمتیں طلب کو کم اور اقتصادی نمو کو سست کر سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد خام تیل کی بلند قیمتوں اور سپلائی میں رکاوٹ نے بھارت کو متاثر کیا ہے، جو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ اور صارف ہے۔ اس کے نتیجے میں خوردہ فروشوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ کیا، جبکہ حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے ککنگ گیس سلنڈرز پر سبسڈی بھی کم کر دی۔
کانگریس نے حکومت کی کارکردگی پر 76 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی، جس کا عنوان تھا ”وعدہ بمقابلہ حقیقت: مودی 3.0 کا سال 2“۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ کے اخراج، کمزور نجی سرمایہ کاری، گرتا ہوا اعتماد اور بلند شرح بے روزگاری نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتصادی دعووں کو کمزور کر دیا ہے۔
سینئر کانگریس رہنما اور سابق مرکزی بینک بورڈ رکن راجیو گوڈا نے کہا کہ حکومت نے خام تیل کی کم قیمتوں سے کئی سال فائدہ اٹھایا، لیکن صارفین کو ریلیف دینے کے بجائے ٹیکس بڑھانے اور ونڈ فال منافع جمع کرنے کا انتخاب کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کو اب تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کرنا چاہیے۔ گوڈا نے کہا کہ ” براہِ کرم ایسا نہ کریں۔ یہ کڑوی گولی تھوڑی دیر کے لیے خود نگل لیں، کیونکہ آپ پہلے ہی پھلوں سے لطف اندوز ہو چکے ہیں۔“
تیل کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے پیر کے روز حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت توقع کر رہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں تیل اور گیس کی قیمتیں گر جائیں گی اور امریکا اسرائیلی جنگ کے باوجود توانائی کے ذخائر کافی ہیں۔
گوڈا نے خبردار کیا کہ ایندھن اور ضروری اشیاء کی بار بار بڑھتی قیمتیں معاشی ترقی کو روک سکتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت 2026 میں دنیا کی چھٹی سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے، جبکہ پچھلے سال یہ چوتھے نمبر پر تھا۔ مئی میں روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 95 تک گر کر ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے 2026 کے پہلے پانچ مہینوں میں بھارت سے تقریباً 2.1 ٹریلین روپے (22 ارب ڈالر) نکالے، اور مالی سال کے بیشتر مہینوں میں خالص غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری منفی رہی۔
گوڈا نے کمزور سرمایہ کاری کا سبب کاروباری حضرات میں خوف کو قرار دیا ہے۔