کاروبار اور معیشت

عالمی بینک نے 190 ملین ڈالر کے پاکستان ہاؤسنگ فنانس منصوبے کی تنظیمِ نو کی منظوری دیدی

  • اس تنظیمِ نو کا مقصد مارکیٹ میں بہتری اور شرح سود میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے ہاؤسنگ فنانس کو دوبارہ متحرک کرنا ہے
شائع June 7, 2026 اپ ڈیٹ June 7, 2026 10:53am

عالمی بینک نے 190.24 ملین ڈالر مالیت کے پاکستان ہاؤسنگ فنانس پراجیکٹ (پی ایچ ایف پی) کی تنظیمِ نو (ری اسٹرکچرنگ) کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اس کی اہم رسک شیئرنگ فیسلٹی کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا اور حکومتی سبسڈی والے ہاؤسنگ فنانس پروگرام کی معطلی کے بعد بدلتی ہوئی مارکیٹ صورتحال کے مطابق اہم کارکردگی اہداف میں بھی ردوبدل کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اس تنظیمِ نو کا مقصد مارکیٹ میں بہتری اور شرح سود میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے ہاؤسنگ فنانس کو دوبارہ متحرک کرنا ہے۔

مارچ 2018 میں منظور کیے جانے والے اس منصوبے کا مقصد پاکستان مارگیج ری فنانس کمپنی (پی ایم آر سی) کو فعال بنا کر ہاؤسنگ فنانس تک رسائی بہتر بنانا اور کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی میں معاونت فراہم کرنا تھا۔

یہ منصوبہ پاکستان کے ہاؤسنگ فنانس سیکٹر کی ان دیرینہ ساختی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، جہاں رہائشی قرضوں کا حجم تاریخی طور پر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 0.25 فیصد رہا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد اور اس کے ترقیاتی اہداف کے حصول کی مجموعی پیش رفت اطمینان بخش ہے، جبکہ پی ایم آر سی کے سرمایہ مضبوط بنانے والے جزو کو انتہائی اطمینان بخش قرار دیا گیا ہے۔

پی ایم آر سی کے فعال ہونے کے بعد اس نے مقررہ شرح سود پر ہاؤسنگ قرضوں کے فروغ، قرضوں کی مدت میں اوسطاً پانچ سال اضافے اور قرض لینے کی لاگت میں 3 سے 4 فیصد کمی کے ذریعے ہاؤسنگ فنانس کے شعبے کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس منصوبے نے نجی شعبے سے سرمایہ کاری کے حصول میں بھی مدد دی۔ پی ایم آر سی نے عالمی بینک کی معاونت سے حاصل ہونے والے سب آرڈینیٹڈ قرضوں کی بنیاد پر مقامی کیپیٹل مارکیٹ سے مزید 69.4 ملین ڈالر جمع کیے، جبکہ 2020 میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے 3.1 ملین ڈالر بطور ایکویٹی شراکت دار سرمایہ کاری کی۔

اس کے علاوہ اس منصوبے نے نجی ہاؤسنگ فنانس کمپنیوں کے قیام میں معاونت کی اور مائیکرو فنانس اداروں کو بھی ہاؤسنگ قرضوں کے شعبے میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا۔ منصوبے کے تحت قائم کی گئی ابتدائی رسک شیئرنگ فیسلٹی (آر ایس ایف) پہلے ہی اپنی اصل صلاحیت سے دس گنا زیادہ استعمال ہو چکی ہے اور اس کے ذریعے 100 ملین ڈالر مالیت کے مارگیج پورٹ فولیو کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

یہ تنظیمِ نو حکومت کے میرا پاکستان میرا گھر پروگرام کی 2022 میں معطلی کے بعد کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت کم آمدنی والے افراد کو رعایتی اور مقررہ شرح سود پر ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے جاتے تھے۔ پروگرام کی معطلی، معاشی عدم استحکام اور شرح سود میں نمایاں اضافے کے باعث 2022 سے 2024 کے دوران ہاؤسنگ قرضوں کے اجرا کی رفتار شدید متاثر ہوئی۔

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی بینک نے توسیع شدہ آر ایس ایف کا دائرہ کار بڑھانے کی منظوری دی ہے تاکہ صرف حکومتی معاونت والے قرضوں کے بجائے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے تمام ہاؤسنگ قرضوں کو اس کے تحت شامل کیا جا سکے۔ یہ فیسلٹی حال ہی میں متعارف کرائی گئی میرا گھر، میرا آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کے تحت فراہم کیے جانے والے قرضوں کی بھی معاونت کرے گی۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف کا موجودہ سرمایہ ابھی پوری طرح استعمال نہیں ہو سکا اور اس کے تحت آنے والا پورٹ فولیو تقریباً اس کے سرمائے کے برابر ہے۔ بینک کے مطابق اہل قرضوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے سے شرح سود میں کمی کے موجودہ ماحول میں ہاؤسنگ قرضوں کے اجرا میں تیزی آئے گی۔

تنظیمِ نو کے تحت منصوبے کے اختتامی اہداف میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ جون 2026 تک پی ایم آر سی کے ذریعے ری فنانس کیے جانے والے مارگیج قرضوں کا ہدف کم کر کے 25,000 مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ آر ایس ایف کے تحت شامل پورٹ فولیو کا نیا ہدف تقریباً 182 ملین ڈالر رکھا گیا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق ان تبدیلیوں کی ضرورت میرا پاکستان میرا گھر پروگرام کی معطلی، آر ایس ایف کے لیے اضافی 30 ملین ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری کی منسوخی اور 2022 میں اضافی فنانسنگ کی منظوری کے فوراً بعد پیدا ہونے والے معاشی بحران کے باعث پیش آئی۔

ان مشکلات کے باوجود عالمی بینک کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ اب بھی نمایاں ترقیاتی فوائد فراہم کر رہا ہے اور پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس مارکیٹ کو وسعت دینے اور عام شہریوں کے لیے کم لاگت رہائشی ملکیت تک رسائی بڑھانے کی کوششوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026