پاکستان نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرا دی
- حکومت کا سالانہ 20 کروڑ روپے تک کی ریٹیل فروخت پر 1 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے حکومت کی چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم، 20 کروڑ روپے تک سالانہ فروخت پر 1 فیصد ٹیکس
ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششوں کے تحت پاکستان کی حکومت نے جمعہ کو چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی، جس کے تحت 20 کروڑ روپے تک کی سالانہ ریٹیل فروخت پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
اس پیش رفت کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا، ’’ہمارے ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔‘‘
انہوں نے اعتراف کیا کہ دستاویزی کارپوریٹ شعبے اور تنخواہ دار طبقے سمیت کئی شعبے ’’غیر متناسب ٹیکس بوجھ‘‘ برداشت کر رہے ہیں، اور کہا کہ ’’ہمیں ٹیکس کی شرحیں کم کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
وزیر خزانہ کے مطابق آج کے اقدام کا ہدف چھوٹے ریٹیلرز ہیں، جن کی تعداد تقریباً 30 سے 40 لاکھ دکانداروں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ٹیکس نیٹ میں توسیع کے حوالے سے یہ ایک اہم سنگِ میل ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود ملک کی معیشت مستحکم رہی۔ ان کے بقول، ’’ہم نے اپنے چیلنجز پر اپنے وسائل سے قابو پایا اور کسی سے مدد نہیں لی۔‘‘
اسکیم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ اسکیم ان ریٹیلرز پر لاگو ہوگی جن کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ اس کے تحت ریٹیلر کے سالانہ کاروبار (ٹرن اوور) پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے سے کٹوتی ہونے والا ودہولڈنگ ٹیکس ( ڈبلیو ایچ ٹی ) اس ٹیکس میں ایڈجسٹ کر دیا جائے گا۔ تاہم ریٹرن یا فارم جمع کراتے وقت ریٹیلر کو کم از کم 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ یہ اسکیم ریٹیلرز کے لیے اختیاری ہے، لیکن اس سے انہیں متعدد فوائد حاصل ہوں گے، جن میں ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل ( پی او ایس ) نظام اور آڈٹ سے استثنیٰ شامل ہے۔
ان کے مطابق فائلرز اور نان فائلرز دونوں اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو ریٹیلرز فکسڈ ٹیکس اسکیم یا معمول کے ٹیکس نظام میں رجسٹریشن نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
بلال اظہر کیانی نے مزید بتایا کہ ٹھیلے لگانے والے فروش (اسٹریٹ کارٹ سیلرز) اس اسکیم سے مستثنیٰ رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد متعارف کرائی گئی ہے۔