کاروبار اور معیشت

کیمیکلز اینڈ ڈائز ایسوسی ایشن کا جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کا مطالبہ

  • کاروبار دوست بجٹ انتہائی ضروری، سخت ٹیکس پالیسیاں کاروبار کو غیر رسمی معیشت کی طرف دھکیل رہی ہیں، سلیم ولی محمد
شائع June 5, 2026 اپ ڈیٹ June 5, 2026 04:27pm

پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے کاروباری طبقے پر بڑھتے ہوئے کمپلائنس بوجھ کو کم کرنے، جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یسوسی ایشن کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا کہ سخت آڈٹ اور پیچیدہ تقاضے ٹیکس دہندگان کو غیر رسمی معیشت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری ٹیکس دینا چاہتی ہے مگر پیچیدہ طریقہ کار اور رہنمائی کے فقدان کے باعث غلطیاں کرتے ہیں جنہیں ایف بی آر نوٹسز میں بدل دیتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایف بی آر کو رہنمائی اور سہولت فراہم کرنے والا رویہ اپنانا چاہیے۔

پی سی ڈی ایم اے نے جی ایس ٹی کی شرح کو 18 فیصد سے کم کر کے 16 فیصد کرنے اور بتدریج سنگل ڈیجٹ تک لانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ کم شرح ٹیکس سے کمپلائنس بہتر ہوگی، ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا اور حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے کمرشل امپورٹرز کے لیے فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) کی بحالی اور اضافی سیلز ٹیکس کی ادائیگی سے منسلک آڈٹ استثنیٰ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان سہولتوں کے خاتمے سے درآمد کنندگان کے لیے غیر یقینی صورتحال اور کمپلائنس اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے سیکشن 8 بی کی سہولت بحال کرنے کی تجویز دی تاکہ درآمد کنندگان کو 95 فیصد آؤٹ پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی اجازت ہو اور صرف 5 فیصد نقد ادائیگی کرنی پڑے۔ مزید ٹیکس کی شرح کو 4 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کی سفارش بھی کی گئی تاکہ جعلی انوائسنگ کے رجحان کو روکا جا سکے۔

بجٹ تجاویز میں آمدنی ٹیکس کے حوالے سے خام مال کی مقامی سپلائی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 5 اور 5.5 فیصد سے کم کرکے 2 اور 2.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن نے کمرشل اور صنعتی درآمد کنندگان کے درمیان غیر مساوی ٹیکس سلوک پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یکساں درآمدات پر یکساں ٹیکس لگنا چاہیے۔کسٹمز کے حوالے سے وی بوک ٹوکن فیس ختم کرنے اور این ٹی این کی بنیاد پر خود کلیئرنس سہولت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس سہولت کے خاتمے سے کسٹمز دفاتر میں تاخیر اور انتظامی مسائل بڑھ گئے ہیں۔

بجٹ تجاویز میں ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو ختم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے جسے ایسوسی ایشن نے غلط استعمال اور ریونیو لیکیج کا باعث قرار دیا لہٰذا اس کے بجائے ریفنڈ نظام کو مضبوط اور تیز تر بنانے پر زور دیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026