کاروبار اور معیشت

ریکو ڈک منصوبہ: سیکیورٹی اور خریداری کے امور کا جائزہ لینے کے لیے بیرک کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

  • وفد جدید ترین آلات کی خریداری اور کمپنی کے قرضہ جات کے فریم ورک کو وسعت دینے پر بات چیت کرے گا
شائع June 4, 2026 اپ ڈیٹ June 4, 2026 01:59pm

بلوچستان کے ریکو ڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے سیکیورٹی پروٹوکولز اور خریداری کی حکمت عملیوں کا جائزہ لینے کے لیے بیرک مائننگ کارپوریشن کے نمائندے بدھ کو اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ وفد جدید ترین آلات کی خریداری اور کمپنی کے قرضہ جات کے فریم ورک کو وسعت دینے پر بات چیت کرے گا۔

منصوبے میں شراکت دار ادارے او جی ڈی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک نے بتایا کہ وفد سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے، تاکہ مزید مالیات اور سیکیورٹی کی ضرورت کا تعین کیا جا سکے۔ معاہدے کے تحت اس جائزے میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے کتنے اضافی فنڈز درکار ہو سکتے ہیں،تاہم سیکیورٹی فراہم کرنا مکمل طور پر پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں قرض دہندگان نے موجودہ پروٹوکولز پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مزید مالیاتی اداروں نے منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ریکو ڈک مائننگ کمپنی میں 50 فیصد شیئرز بیرک کارپوریشن، 25 فیصد وفاقی حکومت اور 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کے پاس ہیں۔