غزہ میں جمعرات کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 9 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد بھی شامل ہیں۔
طبی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے علی الصبح تقریباً ایک ہی وقت میں چار رہائشی اپارٹمنٹس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 9 افراد شہید اور 15 زخمی ہو گئے۔ ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہوئے جن میں والدین بھی شامل تھے۔
اسرائیلی فوج نے ان واقعات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جائے وقوعہ کی تصاویر میں ایک عمارت کو شدید تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں اندرونی فرنیچر جل چکا تھا اور ملبہ سڑک تک بکھرا ہوا تھا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو، جس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، میں دیکھا گیا کہ لوگ ایک جلتے ہوئے اپارٹمنٹ سے کمبلوں کی مدد سے لاشیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، اور جنگ کے آغاز سے اب تک صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد ممکنہ خطرات کو روکنا ہے، جبکہ وہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت بھی دے رہی ہے۔
غزہ کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 930 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔