مارکٹس

اسرائیل، لبنان میں جنگ بندی معاہدہ، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں

  • برینٹ فیوچرز 87 سینٹ یا 0.89 فیصد کی کمی کے ساتھ 96.92 ڈالر فی بیرل پر آگئے
شائع June 4, 2026 اپ ڈیٹ June 4, 2026 11:19am

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ اس پیش رفت نے ایران کے ساتھ جاری امریکہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر معاہدے کی امیدیں بڑھا دیں جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

برینٹ فیوچرز 87 سینٹ یا 0.89 فیصد کی کمی کے ساتھ 96.92 ڈالر فی بیرل پر آگئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 78 سینٹ یا 0.81 فیصد گر کر 95.24 ڈالر پر آ گئی جس سے ہفتے کے آغاز میں ہونے والا منافع برقرار نہ رہ سکا۔

بدھ کو برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا تھا جس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی تھی۔

اسرائیل اور لبنان نے بدھ کو دیر گئے بتایا کہ وہ جنگ بندی پر عملدرآمد کیلئے رضامند ہوگئے جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی حتمی معاہدے کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں کیونکہ ایران نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں رواں ہفتے کے آخر تک ہی پیشرفت ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ تہران کے رابطے منقطع نہیں ہوئے، تاہم مذاکرات میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین اس وقت ان دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کا آپس میں تبادلہ کیا گیا تھا۔

امریکہ میں ریپبلکنز کی قیادت میں کام کرنے والے ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے۔

تاہم اس قرارداد پر عمل درآمد کیلئے اسے سینیٹ کی منظوری اور ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ ویٹو کو مسترد کرنے کیلئے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔

دوسری جانب انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بدھ کو بتایا کہ 29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکہ میں خام تیل کے ذخائر 8 ملین (80 لاکھ) بیرل کی کمی کے ساتھ 433.7 ملین بیرل رہ گئے۔

یہ گراوٹ رائٹرز کے سروے میں ماہرینِ معیشت کی جانب سے متوقع 4 ملین (40 لاکھ) بیرل کی کمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی تھی۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر ذخائر میں کمی اسی رفتار سے جاری رہی تو گرمیوں میں طلب کے عروج سے پہلے ہی عالمی سطح پر تیل کے ذخائر انتہائی تشویشناک حد تک کم ہو سکتے ہیں حالانکہ مئی کے دوران چین کی خام تیل کی درآمدات میں مارچ کے مقابلے میں روزانہ 6 ملین بیرل کی کمی دیکھی گئی ہے۔

ڈچ مالیاتی گروپ آئی این جی نے اپنے ایک نوٹ میں کہا کہ تیل کے ان ذخائر نے اب تک مارکیٹ کو سہارا فراہم کر رکھا ہے، تاہم اگر ہم آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی کی جلد بحالی بھی دیکھ لیں تب بھی یہ ریکوری انتہائی سست اور بتدریج ہوگی۔

نوٹ میں مزید کہا گیا کہ اس صورتحال سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تیسری سہ ماہی میں بھی تیل کے ذخائر میں کمی کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے جس کے باعث قیمتوں میں اضافے کا خطرہ موجود رہے گا۔