ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا خواہشمند ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ
- امریکی و اسرائیلی حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کا خدشہ، جانشین بننے کے بعد سے منظرِ عام سے غائب ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں،یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران ایک دوسرے پر تیزی سے کمزور ہوتی ہوئی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔
یہ مانا جاتا ہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ان امریکی و اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوئے تھے جن میں ان کے والد علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے اور اپنے والد کا جانشین نامزد کیے جانے کے بعد سے انہیں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا ہے۔
امریکی صدر نے نیویارک پوسٹ کے پوڈ کاسٹ پوڈ فورس ون میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ان سے ملنا چاہوں گا اور یہ سب کچھ کس طرح طے پاتا ہے، اس پر منحصر رہتے ہوئے ہم شاید کسی موقع پر ملاقات کریں گے۔
جب ایرانی مذہبی رہنما کی صحت کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے مزید کہا کہ خامنہ ای معاملات میں بالکل، یقیناً شامل ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں سن رہا کہ وہ بہت اچھے (صحت مند) ہیں۔ اگر آپ کہانیوں اور خبروں پر یقین کریں تو ان کے جسم کے بہت سے مختلف حصے شدید متاثر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ (فیصلوں کی) منظوری دے رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس پینل کو بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور پہلے سے زیادہ متحرک ہو رہے ہیں۔
روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ میرا خیال ہے کہ وہاں ایسے اشارے موجود ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
بدھ کے روز کویت کے ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک ایرانی حملے نے 8 اپریل کو ہونے والی کمزور جنگ بندی کا اب تک کا سب سے سخت امتحان لیا ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (ایسوسی ایٹڈ گارڈز) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ایک ایرانی آئل ٹینکر اور جزیرے پر امریکی حملوں کا ردِعمل (انتقام) تھا۔