دنیا

امریکا کا یورپ میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی بڑھانے پر غور

  • مشرقی یورپ میں نیٹو کے رکن ممالک، خصوصاً پولینڈ اور بالٹک ریاستیں، اس امکان میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اس بات پر غور کر رہا ہے کہ نیٹو کے یورپی رکن ممالک میں اضافی ممالک کو بھی جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی دی جائے۔

منگل کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ موجودہ چھ ممالک کے علاوہ مزید ریاستوں میں جوہری صلاحیت رکھنے والے بمبار طیاروں کی تعیناتی کے لیے آمادگی ظاہر کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ اس بات سے متعلق ہے کہ مزید ممالک میں ایسے امریکی دوہری صلاحیت والے طیارے تعینات کیے جائیں جو جوہری حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ فوری طور پر متوقع نہیں ہے۔

مشرقی یورپ میں نیٹو کے رکن ممالک، خصوصاً پولینڈ اور بالٹک ریاستیں، اس امکان میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر ایسے فضائی اڈے قائم کریں جہاں یہ طیارے تعینات کیے جا سکیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نیٹو کے اندر اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔

رائٹرز نے اس رپورٹ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔

وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع اور نیٹو کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔

پینٹاگون کے پالیسی چیف ایلبرج کولبی پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا نیٹو اتحادیوں کے دفاع کے لیے اپنے جوہری ہتھیار استعمال کرتا رہے گا، تاہم یورپی اتحادیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ روایتی دفاعی صلاحیتوں میں زیادہ کردار ادا کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے کئی قریبی مشیر یورپی اتحادیوں پر یہ تنقید کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنی افواج پر کم خرچ کرتے ہیں اور دفاعی طور پر امریکا پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔