کاروبار اور معیشت

محدود مالی گنجائش، 3 ٹریلین کے ترقیاتی منصوبے موخر ہونے کا امکان

  • پی ایس ڈی پی کی 1.126 ٹریلین روپے کی مختص رقم کے مقابلے میں تقریباً 4 ٹریلین کے منصوبوں کی درخواستیں موصول
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کو مالی سال 2027 میں تقریباً 3 ٹریلین روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے مؤخر کرنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے کیونکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی 1.126 ٹریلین روپے کی مختص رقم کے مقابلے میں تقریباً 4 ٹریلین کے منصوبوں کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف وزارتوں کی جانب سے 4.097 ٹریلین روپے کی مجموعی طلب کے مقابلے میں وزارتِ خزانہ نے صرف 1.126 کھرب روپے مختص کیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 3 ٹریلین روپے کے مطالبات پورے نہیں کیے جاسکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 3 ٹریلین روپے مالیت کے منصوبوں کو مسترد یا منظور نہ کیے جانے کا امکان ہے۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ ہمیں 4 ٹریلین روپے سے زائد کے مطالبات میں سے انتہائی احتیاط اور انتخاب کے ساتھ صرف 1.126 ٹریلین روپے مختص کرنے ہوں گے۔ یہ ایک انتہائی مشکل ٹاسک ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں اینول پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی ) کے اجلاس کے دوران کیا جس کا انعقاد مالی سال 2026-27ء کے وفاقی ترقیاتی بجٹ اور سالانہ معاشی منصوبے کی سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لیے کیا گیا جبکہ اس سیشن کا ایجنڈا پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئندہ بجٹ کی تجاویز پر غور کیا جائے گا جب کہ رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ کی کارکردگی اور فنڈز کے استعمال کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے ترقیاتی فنڈز کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ وزارتِ منصوبہ بندی، وزارتِ خزانہ کی جانب سے فراہم کردہ مالیاتی حدود کی پابند ہے اور ہمیں اسی حد کے اندر رہ کر منصوبہ بندی کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزارتِ منصوبہ بندی کو درپیش سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے کہ ہمیں سکڑتے ہوئے ترقیاتی بجٹ کے اندر رہ کر ہی فنڈز کی تقسیم کرنا پڑ رہی ہے۔

پی ایس ڈی پی کے تحت مجموعی طور پر 1.126 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 125 ارب روپے این-25 ہائی وے منصوبے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس رقم کو مجموعی پی ایس ڈی پی سے منہا کیا جائے تو صرف 1.001 ٹریلین روپے باقی رہ جاتے ہیں جو 2018 کے پی ایس ڈی پی کے برابر ہے۔

احسن اقبال نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال اتحادی جماعتوں کی جانب سے تقریباً 87 ارب روپے کے منصوبوں کی درخواست کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے لیے این-25 کے علاوہ تقریباً 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مزید یہ کہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ضم شدہ اضلاع کے لیے 153 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر یہ فنڈز این ایف سی میکانزم کے ذریعے آنے چاہئیں، تاہم چونکہ اس مسئلے پر ابھی تک اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا، اس لیے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے جاری اور ترقیاتی بجٹ کی تمام تر فنڈنگ وفاقی حکومت کے حصے سے ہی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مزید 70 ارب روپے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

ان تمام مالی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھنے کے بعد صرف تقریباً 591 ارب روپے دستیاب رہ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ہمیں غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کے لیے روپی کور بھی فراہم کرنا ہوگا جس سے مراد ایشیائی ترقیاتی بینک ، ورلڈ بینک اور دیگر کثیر فریقی قرض دہندگان جیسے اداروں سے حاصل کردہ قرضوں کے لیے مطلوبہ مقامی کرنسی کی فنڈنگ ہے۔

“انہوں نے کہا کہ روپی کور کی ابتدائی طلب 832 ارب روپے تھی تاہم اقتصادی امور ڈویژن نے وزارتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اسے کم کر کے 426 ارب روپے کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ اگر اس 426 ارب روپے کی ضرورت کو شامل کیا جائے تو پورے پی ایس ڈی پی میں صرف 165 ارب روپے باقی رہ جاتے ہیں، اگر ہم گزشتہ سال کی کٹوتیوں کے 180 ارب روپے کے کیری فارورڈ اثر کو بھی منہا کریں تو پی ایس ڈی پی عملاً منفی 15 ارب روپے کے خسارے میں چلا جاتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ عملی طور پر ہم اسی صورتحال میں کام کررہے ہیں، زیادہ ترقیاتی سرگرمی نہیں ہورہی اور یہ کسی بھی قوم کے لیے خوش آئند حالت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلی حقیقت جسے ہمیں تسلیم کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ نئے منصوبوں کے لیے عملی طور پر کوئی مالی گنجائش موجود نہیں ہے۔