کاروبار اور معیشت

آسان ٹیکس اسکیم کے مسودے پر انجمنِ تاجران کا شدید اعتراض

  • وزیرِاعظم ریٹیلرز کیلئے تجویز کردہ نئے ٹیکس نظام پر نظرِ ثانی کریں، نعیم میر
شائع اپ ڈیٹ

انجمنِ تاجران نے تاجروں کے لیے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کی جانب سے پیش کی گئی آسان ٹیکس اسکیم کے مسودے پر شدید اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تاجروں کے رہنما محمد نعیم میر نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے ریٹیلرز کے لیے تجویز کردہ نئے ٹیکس نظام پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ نظام دہرے ٹیکس کا باعث بنے گا اور اس سے تاجر برادری پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔

وزیر اعظم کو لکھے گئے ایک ہنگامی خط میں نعیم میر نے سوال اٹھایا کہ جب انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 236 جی اور 236 ایچ کے تحت ہول سیلرز اور ریٹیلرز سے پہلے ہی منبع پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے تو ایک نیا ٹیکس نظام متعارف کرانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ اقدام دراصل دوہرے ٹیکس کے مترادف ہوگا اور پہلے ہی مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنے والے کاروباری طبقے پر اضافی بوجھ ڈالے گا۔

نعیم میر نے نشاندہی کی کہ صوبائی حکومتیں مختلف ٹیکس اور لیویز فعال طور پر وصول کر رہی ہیں جبکہ وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو بھی ٹیکس آمدنی میں اضافے کی کوششیں تیز کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو ریونیو اہداف حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کے باعث ٹیکس دہندگان پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایک نئے ٹیکس کا نفاذ، بالخصوص ایسا ٹیکس جو پہلے سے موجود ٹیکس کے طریقہ کار کو دہراتا ہو، تاجروں اور ریٹیلرز، خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے غیر یقینی صورتحال اور مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ نظام تاجر برادری پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالے گا اور یہ چھوٹے ریٹیلرز کے خلاف ایک غیر منصفانہ اقدام کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے وزیرِاعظم سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ ٹیکس نظام پر نظرِثانی کی جائے اور تاجروں کو مزید مالی دباؤ سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026