اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس تقریباً 2 فیصد گر گیا
- شدید اتار چڑھاؤ کے بعد انڈیکس 170,600.20 کی سطح پربند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جس کے باعث 100 انڈیکس میں تقریباً 2 فیصد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز ہی منفی زون میں ہوا۔ پورے تجارتی سیشن کے دوران مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی اور کاروبار کے آخری گھنٹوں میں یہ مندی مزید شدت اختیار کرگئی جس سے انڈیکس دورانِ ٹریڈنگ 170,396.85 پوائنٹس کی دن کی نچلی ترین سطح پر چلا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 3,362.61 پوائنٹس یا 1.93 فیصد کی بھاری کمی کے ساتھ 170,600.20 پر بند ہوا۔
بروکرج ہاؤس ’ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے بند ہونے پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مارکیٹ میں منفی رجحان کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اچانک ہونے والا اضافہ ہے، کیونکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملک میں مہنگائی اور بیرونی کھاتوں (کرنٹ اکاؤنٹ) پر دباؤ کے خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر شیئرز کی فروخت کو تحریک دی۔
پیر کو ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کے تبادلے اور حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی جانب سے اپنی فوج کو لبنان کے اندر مزید آگے بڑھنے کے احکامات کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گرین وچ ٹائم کے مطابق 11:21 بجے برینٹ کروڈ کے سودے 2.68 ڈالر یا 3 فیصد اضافے کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل پر ہو رہے تھے۔ اسی طرح امریکی خام تیل کے سودے 3.03 ڈالر یا 3.5 فیصد بڑھ کر 90.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ مئی کے پورے مہینے کے دوران برینٹ کی قیمت میں تقریباً 19 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 17 فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی۔ مارچ 2020 میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث توانائی کی طلب میں آنے والی شدید کمی کے بعد سے دونوں برانڈز کے لیے یہ اب تک کی سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ تھی۔
مارکیٹ میں محتاط رویہ پیدا کرنے میں پاکستان کی مئی 2026 کے لیے مہنگائی (سی پی آئی) کے اعداد و شمار نے بھی اہم کردار ادا کیا، جو گزشتہ مہینے کے 10.89 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 11.66 فیصد پر بند ہوئے، جس سے افراطِ زر کے دباؤ میں اضافے کا اشارہ ملتا ہے اور اس نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو مزید متاثر کیا۔
ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق مارکیٹ میں اس مندی کے رجحان کو ہوا دینے میں بڑے (ہیوی ویٹ) اسٹاکس نے بنیادی کردار ادا کیا، جن میں اینگرو، فوجی فرٹیلائزر، لکی سیمنٹ، حبکو اور او جی ڈی سی شامل ہیں۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس سے 1,464 پوائنٹس چھین لیے، جس نے مارکیٹ کو نیچے گرانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔
بہتری کیپیٹل کی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کار 5 جون کو پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ اور خلیجی خطے (خلیج) میں برقرار غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر انتہائی محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان خبروں نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات اور عوامی سطح پر مقبول سیاسی اقدامات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے سخت مشکلات کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ تنخواہ دار طبقے (ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کمانے والوں) کو ریلیف دینے کی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن دوسری جانب آئی ایم ایف 17 ٹریلین (17 ہزار ارب) روپے سے زائد کے ریکارڈ ٹیکس ہدف کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس صورتحال نے 5 جون کے آنے والے بجٹ میں بینکنگ اور صنعتی شعبوں پر سپر ٹیکسز نافذ کیے جانے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ میں زبردست بحالی دیکھنے میں آئی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نمایاں طور پر تقویت دی، جس کے نتیجے میں مختصر تعطیلاتی کاروباری ہفتے کے دوران 100 انڈیکس میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ہفتہ وار بنیادوں پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 6,119 پوائنٹس کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد مارکیٹ 173,963 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوئی۔
بین الاقوامی سطح پر پیر کو ایشیائی شیئر بازاروں میں بہتری دیکھی گئی کیونکہ اے آئی سے متعلق شعبوں میں تیزی کے تسلسل نے طلب کو بڑھایا جس نے خلیجی امن مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والی بے یقینی کے اثرات کو جزوی طور پر زائل کیا۔ اس صورتحال نے آبنائے ہرمز کی بحالیِ آمدورفت سے متعلق امیدوں کو چیلنج کیا اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔
ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور تہران کے مذاکرات کار بظاہر کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی پیش رفت پر نمایاں طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ہفتے کو گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا تو امریکہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی جانب سے لبنان کے اندر مزید پیش قدمی نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں کوئی مدد نہیں کی۔
درحقیقت مذاکرات میں پیش رفت کی کسی بھی خبر کے فقدان نے برینٹ کروڈ (عالمی خام تیل) کی قیمت کو 1.9 فیصد بڑھا کر 92.89 ڈالر فی بیرل کر دیا جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 2.4 فیصد اضافے کے ساتھ 89.46 ڈالر پر پہنچ گئی۔
ایشیائی شیئر بازاروں کو سیمی کنڈکٹرز اور اے آئی سے متعلق آلات کی مضبوط طلب بدستور سہارا دے رہی ہے جس کے باعث جاپان کے نکئی انڈیکس میں مزید 0.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ہفتے یہ تقریباً 5 فیصد بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ ہفتے 8 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد سامنے آیا جبکہ تائیوانی مارکیٹ گزشتہ ہفتے تقریباً 6 فیصد چڑھ گئی تھی۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس بھی 0.2 فیصد بڑھ گیا۔
دوسری جانب پیر کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کے فائدے کے ساتھ 278.47 روپے پر بند ہوئی۔
مارکیٹ کے ’آل شیئر انڈیکس‘ پر کاروباری حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 555.06 ملین شیئرز سے بڑھ کر 589.76 ملین شیئرز ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم شیئرز کے کاروبار کی مجموعی مالیت گزشتہ سیشن کے 40.88 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 31.98 ارب روپے رہی۔
دیوان سیمنٹ 43.32 ملین شیئرز کے کاروبار کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جس کے بعد ٹی آر جی پاکستان لمیٹڈ 39.41 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ورلڈ کال ٹیلی کام 34.96 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ فعال رہا۔
پیر کو مارکیٹ میں مجموعی طور پر 489 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 168 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 296 کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 25 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم (برقرار) رہیں۔